خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد ۹ 393 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کی دعا کا ایک پہلو یہ ہے کہ نظام جماعت میں تفرقہ کا باعث نہ بنیں ( خطبه جمعه فرموده ۱۳ جولائی ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامان پھر فرمایا: (الفرقان: ۷۵) میں نے گزشتہ خطبے میں اس امر پر روشنی ڈالی تھی کہ کس طرح اس آیت کریمہ کا ایک حصہ بہت وسیع الاثر دکھائی دیتا ہے اور اس آیت کے اندر گویا ایک مضامین کا دریا ایک کوزے میں بند ہے اور وہ جو ٹکڑا ہے اس آیت کے اندر وہ ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اے ہمارے خدا ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔اس حصہ آیت کا تعلق اولا د سے بھی ہے جس کا ذکر چل رہا ہے اور ازواج سے بھی ہے جن کا پہلے ذکر گزرا کہ اے خدا ہمیں اپنے ساتھیوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما اور اپنی اولاد کی طرف سے اور اولاد در اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔یعنی وہ آنکھوں کی ٹھنڈک جو متقیوں کو دیکھ کر نصیب ہوا کرتی ہے اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے اور اس کے علاوہ اپنی ذات میں یہ ٹکڑا بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے جس کا تعلق زندگی کے تعلقات کے ہر دائرے سے ہے اور پھر ان معنوں میں ازواج کے معنے بھی بدل جاتے ہیں اور وہاں صرف بیویاں مراد نہیں