خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 385
خطبات طاہر جلد ۹ 385 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء جب تک دعا کا یہ حصہ شامل نہ کرلیں کہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اس وقت تک ان تعلقات کا کوئی دائمی فائدہ نہیں ہے۔اگر وہ قائم بھی رہیں اور ابتلاؤں میں نہ بھی ٹوٹیں تب بھی ایسے تعلقات کے نتیجے میں اولاد فیض نہیں پاسکتی جب تک ان تعلقات میں تقویٰ کا عنصر شامل نہ ہو جائے۔پس دعا کا یہ دوسرا حصہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا انسان کی توجہ ان تعلقات کے مال اور مقاصد کی طرف پھیر دیتا ہے یعنی یہ دعا یہ خیال پیدا کرتی ہے کہ ہمیں صرف حال پر راضی نہیں رہنا چاہئے بلکہ مستقبل کی تلاش کرنی چاہئے اور جب تک ہم متقیوں کے پیش رو نہ بن جائیں اس وقت تک ہمیں آپس کے تعلقات میں خوش ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے۔یعنی یہ دعا اس طرف توجہ دلاتی ہے چنانچہ جن کے تعلقات اچھے ہیں ان کے تعلقات میں یہ دعا تقویٰ کے رنگ بھرنے لگتی ہے کیونکہ متقیوں کا امام ہونے کی دعا اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اگر تم واقعہ متقیوں کا امام بننا چاہتے ہو تو تقویٰ میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔کیونکہ امامت کا مضمون بتاتا ہے کہ جس چیز میں کوئی انسان امام ہو ، اس کا پیش رو ہو، ان باتوں میں وہ سب سے آگے ہو تو یہ دعا صرف ایک دعا نہیں رہ جاتی بلکہ عملاً زندگی کی ایک تشکیل نو میں حصہ لیتی ہے اور وہی مضمون جو میں نے پہلے بیان کیا تھا میاں بیوی کے تعلقات میں وہی مضمون تقویٰ کے لحاظ سے انسان کا قدم عملی دنیا میں آگے بڑھانے لگتا ہے اور جب ایک انسان کہتا ہے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا تو اس سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ میری نسلوں میں متقی لوگ پیدا ہو جا ئیں بلکہ مراد یہ ہے کہ مجھ میں تقویٰ کے وہ جو ہر پیدا فرما اور اس شان کا تقویٰ عطا کر کہ میری اولا د یا ہماری اولادیں واقعہ ہمیں اپنا امام سمجھیں یعنی ماں باپ ہونے کے لحاظ سے وہ اس بات پر فخر نہ کریں کہ فلاں لوگ ہمارے آباؤ اجداد تھے۔بلکہ تقومی کے لحاظ سے وہ یہ بات فخر کے ساتھ بیان کیا کریں کہ ہمارے آبا و اجداد متقی تھے۔یہ وہی مضمون ہے جیسے وہ لوگ جو صحابہ کی اولاد میں سے ہیں آج کل جب ان سے تعارف ہو تو وہ بڑے فخر کے ساتھ اور جائز فخر کے ساتھ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد میں فلاں صحابی تھا ہمارے نھیال میں فلاں بزرگ تھا جس کو بیعت کی توفیق ملی۔ہمارے ددھیال میں ایسا شخص تھا۔وہ لوگ واقعی متقیوں کے امام تھے ان معنوں میں کہ ہر متقی ان کی طرف منسوب ہونے میں فخر محسوس کرتا ہے مگر بعد میں غیر متقی بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ بھی فخر کرنے لگتے ہیں۔غیر متقی جو اپنے