خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 370

خطبات طاہر جلد ۹ 370 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء ہے جیسے ایک منزل کے اوپر ایک اور منزل تعمیر کر لی گئی ہو اور اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے أوليكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا یہ وہ لوگ ہیں جنہیں بالا خانے عطا کئے جائیں گے وَيُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَسَلْما اور وہ ان بالا خانوں میں تحائف پائیں گے تَحِيَّةً تحھنے کو کہتے ہیں۔یعنی ایسی نعمتیں پائیں گے جو ان کے اعمال کی جزا نہیں ہوں گی بلکہ اس کے علاوہ محض خدا کے فضل کے نتیجے میں انہیں نصیب ہوں گی۔وسَلمًا اور سلامتی پائیں گے۔آپ قرآن کریم کے تراجم میں جب اس آیت کا ترجمہ پڑھیں گے تو دو باتیں خاص طور پر دکھائی دیں گی۔اول یہ کہ بالا خانوں کا ذکر اس طرح کیا جاتا ہے گویا واقعی ایک منزل کے اوپر دوسری منزل بنی ہے اور اس منزل میں وہ لوگ رہتے ہیں جو دوسری منزل ہے اور دوسرا یہ کہ اس کا تعلق جنت سے ہے اور اس دنیا سے تعلق نہیں ہے۔حالانکہ اولیں طور پر اس کا مضمون کا اس دنیا سے تعلق ہے اوور بالا خانے سے مراد ہرگز ظاہری بالا خانہ نہیں ہے بلکہ اونچے مکان جس طرح اردو میں محاورے میں استعمال ہوتا ہے۔اونچے مرتبے اور ہر زبان میں اونچا کا لفظ بلندی شان کے لئے اور ایک اعلیٰ مقام کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی ظاہری معنوں میں اعلیٰ مقام نہیں بلکہ معنوی لحاظ سے اعلیٰ مقام ہے۔پس بالا خانے سے مراد یہ ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو عزت اور شرف کے مکان ملتے ہیں پس جن کو بلند مراتب نصیب ہوتے ہیں اور یہی مکان ہیں جو دراصل رہنے کے مکان ہیں جن میں یہ لوگ رہتے ہیں کیونکہ ان صفات کے نتیجے میں وہ گھر بالا خانے بنتے ہیں خواہ وہ تہہ خانوں میں بسنے والے لوگ ہوں۔پس چونکہ اس دنیا میں ہر نیک آدمی کو ظاہری طور پر بالا خانے نہیں ملتے اس لئے ترجمہ کرنے والے ظاہری ترجمے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ گویا مراد ظاہری مکانوں کی دوسری منزل ہے۔اگر دوسری منزل مومنوں کی جزا ہے یعنی ظاہری طور پر دوسری منزل تو پھر تو امریکہ اور مغربی دنیا کے دوسرے ممالک جن میں سو سے بھی اوپر منازل بن گئی ہیں ان کے مرتبے تو ہم سے بہت بلند ہو گئے اور ان کو تو خدا نے اتنی جزا اس دنیا میں ہی دے دی کہ اس کا ہم گویا اگلی دنیا میں بھی تصور نہیں کر سکتے۔یہ کیسا خدا ہے جو قرآن کریم پر عمل کرنے والے تو بہ کرنے والے، نیک اعمال کرنے والے اور پھر ایسی ایسی پیاری دعائیں سکھا کر ان دعاؤں کے طلب گاروں کو یہ جزا دیتا ہے کہ اے خدا اس دنیا میں ہمیں تو چلو تو نے ٹوٹے پھوٹے مکان دے دیئے کوئی بات