خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد ۹ 369 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء اور گھر کے پاکیزہ ماحول میں اسے ایک جنت ملتی ہے اور اگر وہاں اس کے لئے طبیعت اور مزاج کے خلاف باتیں ہوں تو وہ گھبرا جاتا ہے۔ایک یہ بھی وجہ بنتی ہے، ایک وجہ یہ بھی بنتی ہے کہ وہ خاوند شادی سے پہلے ہی بداخلاق ہوتا ہے۔اس کو باہر دنیا میں پھر کر اپنی طبیعت کے تقاضے پورے کرنے کی گندی عادت پڑی ہوتی ہیں اور اس کی نظریں بہک چکی ہوتی ہیں۔جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے یہ کہا تھا کہ ہم ایک کھانے پر راضی نہیں رہ سکتے۔ایسے خاوند پھر ایک بیوی پر راضی نہیں رہ سکتے اور ایک سے زائد بیویوں کی ان کے اندر طاقت نہیں ہوتی نہ انصاف کر سکتے ہیں نہ وہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں اس لئے وہ بہکے ہوئے خاوند ہیں اور اکثر جو خطوط ملتے ہیں ان کا زیادہ تر اس کیفیت سے تعلق ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب تک دونوں فریق ایک دوسرے کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک نہ بنیں اس وقت تک یہ توقع رکھنا کہ اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوگی یہ ایک فرضی بات ہے اور اس میں ایک بہت ہی گہری حکمت بیان فرمائی گئی ہے جس کا انسانی نفسیات سے گہرا تعلق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ والدین جو ایک دوسرے سے آنکھوں کی ٹھنڈک پاتے ہیں ان کی اولادیں ہمیشہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہیں۔تربیت میں یک جہتی پائی جاتی ہے اور ایک ہی مزاج کے ساتھ بچے پرورش پا رہے ہوتے ہیں اور وہ ماں باپ جو ایک دوسرے سے سچا پیار کرنے والے اور ایک دوسرے کا ادب کرنے والے اور ایک دوسرے کا لحاظ کرنے والے، ایک دوسرے کی ضروریات کی طرف دھیان رکھنے والے اور اخلاق سے پیش آنے والے ماں باپ ہوتے ہیں ان کی اولاد بھی اپنے ماں باپ سے بھی پیار کرنے والی بنتی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نسبتا بہتر تعلقات قائم کرتی ہے اور ایسی اولاد پھر ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتی ہے۔تو قرآن کریم نے دعا میں بھی کیسی عمدہ ترتیب پیش نظر رکھی فرمایا پہلے یہ دعا کیا کرو کہ اے خدا! ہمیں ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو بنا دے اور جب ہم ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے تو پھر ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ تجھ سے یہ التجا کریں کہ اگلی منزل بھی ہمیں عطا کر جو اسی مضمون کی بالائی منزل ہے۔یعنی پہلے ہمیں ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر پھر ہم اولاد کی طرف سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک پانے والے ہوں تو دو مضمون اوپر تلے بیان ہوئے ہیں اور ایک کا دوسرے سے ایسا تعلق