خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 356
خطبات طاہر جلد ۹ 356 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء جا سکتا۔اس لئے جب آپ اسلام کی محبت کے دعویدار بنتے ہیں اور اسلام کو پھیلانے کے دعوے کرتے ہیں تو یا درکھیں اخلاق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کئے بغیر نہ اسلام آپ کا ہوگا نہ اسلام آپ کسی اور کا بنا سکیں گے۔پس اخلاق فاضلہ اور اخلاق فاضلہ سے پھر میں یہی کہتا ہوں مراد اخلاق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے اُن کے بغیر آپ صحیح داعی الی اللہ نہیں بن سکتے۔دوسری بات اس سلسلے میں تلاش کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا بہت سے دوست بیچارے سمجھتے ہیں کہ تمنا تو ہے بڑی غیر معمولی دل میں خواہش پائی جاتی ہے کہ ہم بھی خدمت کر سکتے لیکن خدمت کی کوئی جگہ نہیں ملتی۔ان سے میں کہتا ہوں کہ آنکھیں کھول کے متلاشی بنیں اور مبلغ کے لئے شکاری کی سی تلاش کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے۔شکاری تو جہاں شکار دور دور تک بھی نہیں ملتا وہ اُس کی تلاش میں سرگرداں پھرتا رہتا ہے اور بعض دفعہ وہ جھاڑیوں کو شکار سمجھ کے اُن پر بھی فائر کر دیتا ہے، بعض دفعہ پتوں کے گچھوں کو فاختہ سمجھ کے اُس پر فائر کر دیتا ہے لیکن دیوانہ ہو جاتا ہے۔ہر وقت تلاش میں سرگردان کہ کہیں سے کوئی چیز مل جائے اور جب کوئی اور شکار نہ ملے تو پھر کئی دفعہ لوگ کوئی کو اہی مار لیتے ہیں۔کھانے کی چیز ہو تو شارک ہی مار لیتے ہیں حالانکہ عام حالات میں وہ پسند نہیں کرتے۔تو شکاری کی روح پیدا کریں اور جب آپ شکاری کی نظر سے دیکھیں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ شکار میں تو آپ گھرے بیٹھے ہیں اور شکار ڈھونڈ رہے ہیں۔کونسی جگہ ہے جہاں آپ کو محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے شکار نہ دکھائی دیتا ہو۔تمام بنی نوع انسان وہ شکار ہیں جو آپ کے چاروں طرف پھیلے پڑے ہیں اُن سے رابطہ کرنے کا سلیقہ پیدا کریں اور اخلاق حسنہ سے مزین ہوں گے تو لازماً آپ میں وہ کشش پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں وہ آپ میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ایک طرف سے نہیں دونوں طرف سے طلب پیدا ہو جائے گی۔دوسرے شکاری کے سلسلے میں یہ ہمیں یا درکھنا چاہئے۔ہم وہ شکاری تو نہیں ہیں جو گولی مار کے جان لیتے ہیں ہم تو وہ شکاری ہیں جو آب حیات پلا کر جان دیتے ہیں اور جان بخشتے ہیں اس لئے محاورہ شکار کا ہی چلتا ہے لیکن شکار کی نوعیت میں بہت فرق ہے، لیکن شکاری خواہ جان بخشنے کے لئے ، جان عطا کرنے کے لئے ڈھونڈ رہا ہو کسی کو یا جان لینے کے لئے اُس کا اور شکار کا آپس کا رابطہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے کیونکہ شکار کی آنکھ اُس کو ہمیشہ خوف اور بے اعتمادی سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔بچوں کو دوائی پلانے والی مائیں