خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 338

خطبات طاہر جلد ۹ 338 خطبہ جمعہ ۱۵ جون ۱۹۹۰ء اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس مضمون کو وہاں سے آگے بڑھائیں۔پھر فرماتے ہیں: اور اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ حقیقی کامیابی خدا کی راہ میں فنا ہونے میں ہی ہے چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب کے پاس پاسپورٹ نہ تھا اس لئے وہ روسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں۔روس کے پہلے ریلوے سٹیشن قبضہ پر انگریزی جاسوس قرار دیئے جا کر گرفتار کئے گئے۔کپڑے اور کتابیں اور جو کچھ پاس تھا وہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں قید رکھا گیا۔اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانہ میں تبدیل کیا گیا“ یہ وہی علاقہ ہے جس کا پہلے ذکر آچکا ہے وہاں سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمر قند تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دو ماہ تک قید رکھا گیا اور بار بار آپ سے بیانات لئے گئے تا یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کی لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے۔تا عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد گوشکی سرحد افغانستان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے اس نے واپس آنے کو اپنے لئے موت سمجھا اور روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔دو ماہ تک آپ وہاں آزادر ہے لیکن دوماہ کے بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کئے گئے اور تین ماہ تک نہایت سخت اور دل کو ہلا دینے والے مظالم آپ پر کئے گئے اور قید میں رکھا گیا اور اس کے بعد پھر روس سے نکلنے کا حکم دیا گیا اور بخارا سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں سرحد ایران کی طرف واپس بھیج دیا گیا“۔اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت میں اور اخلاص اور تقویٰ میں برکت دے