خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 337
خطبات طاہر جلد ۹ 337 خطبہ جمعہ ۱۵ جون ۱۹۹۰ء یعنی اپنے روزگار کا خودا انتظام کرنا ہو گا۔کھانے پینے کا خود انتظام کرنا ہوگا اس دوست نے بڑی خوشی سے ان باتوں کو قبول کیا اور اس ملک کے حالات دریافت کرنے کے لئے اور سلسلہ کی تبلیغ کے لئے بلا زاد راہ فوراً نکل کھڑے ہوئے کوئٹہ تک تو ریل میں سفر کیا سردی کے دن تھے اور برفانی علاقوں میں سے گزرنا پڑتا تھا مگر سب تکالیف برداشت کر کے بلا کافی سامان کے دو ماہ میں ایران پہنچے اور وہاں سے روس میں داخل ہونے کے لئے چل پڑے۔آخری خط ان کا مارچ ۱۹۲۲ء کا لکھا ہوا پہنچا تھا۔اس کے بعد نہ وہ خط لکھ سکتے تھے۔نہ پہنچ سکتا تھا مگر الحمد للہ کہ آج 9 اگست کو ان کا اٹھارہ جولائی کا لکھا ہوا خط ملا ہے۔جس سے یہ خوشخبری معلوم ہوئی ہے کہ آخر اس ملک میں بھی احمدی جماعت تیار ہو گئی ہے اور باقاعدہ انجمن بن گئی ہے۔“ اس دوست کو روسی علاقہ میں داخل ہو کر جو سنسنی خیز حالات پیش آئے وہ نہایت اختصار سے انہوں نے لکھے ہیں لیکن اس اختصار میں بھی ایک صاحب بصیرت کے لئے کافی تفصیل موجود ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کے تجربات سے دوسرے بھائی فائدہ اٹھا کر اپنے اخلاص میں ترقی کریں گئے“ جو بھائی اس زمانے میں مخاطب تھے ان کے لئے تو ممکن نہیں ہو سکا کہ وہ ان تجربات سے فائدہ اٹھا کر اخلاص میں اور نیک اعمال میں ترقی کریں۔آج جو آپ میرے مخاطب ہیں ان میں سے جن کو بھی خدا تعالیٰ توفیق دے اب حالات بہت زیادہ بہتر اور آسان ہو چکے ہیں اور رابطوں میں کوئی خطرہ نہیں ہے، وہ اپنے آپ کو خالصہ اس غرض سے وقف کریں کہ اپنے خرچ پر وہ ان علاقوں میں جن کی میں نے نشاندہی کی ہے خود پہنچ کر جائزے لیں اور حضرت مسیح کے کھوئے ہوئے شیروں کو تلاش کریں کیونکہ مسیح عیسوی کی تو بھیڑیں گئی تھیں، مسیح محمدی" کے اگر گمیں تو شیر گتے ہیں۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ دوست جو استطاعت رکھتے ہیں اور ایک ولولہ اور جوش رکھتے ہیں وہ اب روس میں تبلیغ اسلام کے لئے مستعد ہو جائیں اور وقف عارضی کے لئے ایسے نام ملنے چاہئیں جو ان جگہوں میں جا کر بڑی محنت اور کوشش سے بھولی بسری جماعتوں کا کھوج لگائیں اور پھر ان سے رابطہ کریں اور