خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 329

خطبات طاہر جلد ۹ 329 خطبه جمعه ۱۵/جون ۱۹۹۰ء حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں موجود نہیں تھا، اچانک اس طرح دکھایا جانا خود اپنی ذات میں ایک اعجازی رنگ رکھتا ہے اور پھر اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے بچے کو اٹھایا تو وہ لڑکا بن گیا۔تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجود بچوں کی طرف اشارہ کرنا مراد نہیں تھی بلکہ کسی ایسے بچے کی طرف اشارہ کرنا مراد تھی جو خدا کی تقدیر میں دین کے کام آنے والا تھا اور اس کا لڑکا بن جانا بتاتا ہے کہ بعد میں اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔پس ایک تو یہ الفاظ کی درستی ذہن نشین کر لیں اور جو خطبے چھپ چکے ہیں یا ریکارڈ ہو چکے ہیں ان میں تو اب درستی ممکن نہیں لیکن تاریخ میں یہ بات میرے اس خطبے کے ذریعے درج ہو جائے گی۔دوسری بہت دلچسپ بات جو دوبارہ پڑھنے سے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو خطرہ تھا وہ فوجیوں کی طرف سے تھا اور ان فوجیوں کی تعیین نہیں ہے کہ کون ہیں۔دیکھتے ہیں کہ میں اچانک گھر سے باہر دیکھتا ہوں تو کچھ فوجی افسر گویا بد نیتی کے ساتھ وہاں کھڑے ہیں اور مجھے ان کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو میں زمین پر اتر کر جانے کی بجائے جس طرح پہاڑوں پر گھر بنے ہوتے ہیں اوپر کی منزل کا بھی بالا بالا تعلق ہوتا ہے۔میں بالائی رستے سے نکل گیا ہوں اور یہ میری ہجرت کے عین مطابق ہے یعنی بالائی رستے سے یہاں فضائی رستے کے ذریعے رخصت ہونا اور خاموشی سے رخصت ہونا مراد ہے۔تو بہر حال میں نے پرائیوٹ سیکرٹری کو یہ ہدایت کی تھی کہ اس ذکر کے ساتھ کہ یہ تصیح احباب جماعت کر لیں ، اس ساری رؤیا کو دوبارہ احمدی اخباروں میں شائع کروادیا جائے ہممکن ہے شائع ہو بھی چکی ہوں لیکن جہاں تک انگلستان کے رسالوں کا تعلق ہے ابھی تک میرے علم میں نہیں آیا کہ یہاں شائع ہوئی ہو حالانکہ بھجوائے ہوئے ایک مہینے سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے۔بہر حال اب امید ہے کہ یہ اصل رؤیا اس مختصر نوٹ کے ساتھ جو میرے خطبے سے اخذ کر لیا جائے تمام دنیا کے احمدی اخبارات اور رسائل میں شائع ہو جائے گی۔چونکہ اس کا بہت گہرا تعلق آج کے زمانے سے اور آج کی بدلتی ہوئی تاریخ سے ہے اس لئے سب احمدیوں کو چاہئے کہ اس پر غور کریں اور اس غور کے نتیجے میں اگر کوئی نیا نکتہ ہاتھ آئے تو اس سے بھی مجھے مطلع کریں اور دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو یہ تو فیق عطا فرمائے کہ اسی دور میں ان عظیم الشان فتوحات کی بنیاد میں قائم ہو جائیں جن کے وعدے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے ہیں۔