خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد ۹ 265 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۰ء نہ بھجوائیں۔جیسا کہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھجوا رہے ہیں بلکہ ان میں سے واقفین عارضی لیں اور ان کو یہ کہیں کہ جہاں ہم تمہارے لئے جگہ مقرر کرتے ہیں وہاں آکر دین کو اتنا ضرور سیکھنا ہے کہ تم دوسروں کو سکھا سکو اور پھر اس نظام کو سارا سال جاری رکھیں تا کہ یہ ٹولیاں اولتی بدلتی رہیں آج ایک ٹولی ایک جگہ سے آئی ہے اور جا کے کام میں مصروف ہوگئی۔کل ایک دوسری ٹولی آگئی، پرسوں ایک اور ٹولی آگئی ، گویا کہ اس طرح ایک جاری کلاس کا انتظام ہو۔اس کے لئے ان کو چاہئے کہ پورا نظام مقرر کریں اس کا بجٹ بنائیں اور مجھے مطلع کریں کہ اس قسم کا نظام ہم نے جاری کیا ہے اور ضروری نہیں ہے کہ ایک جگہ ہو جیسا کہ میں نے قرآن کریم کی آیت سے آپ کو سمجھایا ہے۔قرآن کریم نے کسی خاص جگہ کا ذکر نہیں فرمایا اور یہ انسانی سہولتوں اور مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان فرمایا گیا ہے۔اس لئے جہاں ممکن ہے۔جہاں آپ کو اساتذہ مہیا ہو سکتے ہیں اور کم سے کم محنت سے زیادہ سے زیادہ بہترین انتظام جاری کیا جاسکتا ہے وہاں آپ یہ نظام جاری کریں۔خدام اور انصار اور لجنات قرآن کریم سکھانے اور نمازیں سکھانے کے اپنے پروگرام میں مضمون کو پیش نظر رکھیں اور وہ بھی ایک تربیتی اور تعلیمی نظام جاری کر دیں جو سارا سال کام کرتا رہے۔اس طریق پر جب ہم کام کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جس کثرت کے ساتھ دنیا میں اسلام پھیلے گا اسی رفتار کے ساتھ ساتھ اسلام کا روحانی نظام مستحکم ہوتا چلا جائے گا اور جو شخص بھی اسلام میں داخل ہوگا وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامل طور پر ایک ایسے نظام کا حصہ بن جائے گا جو اس کو سنبھالنے والا ہوگا اور نئے آنے والوں کو سنبھالنے والا ہوگا۔ان کی ذہنی اور علمی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہوگا۔ان کی اخلاقی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہوگا اور وہ ایک ٹھوس مستقل نظام کا جزو بن کر ایک عظیم قافلے کے طور پر شاہراہ اسلام پر آگے بڑھنے والے ہوں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ کچھ لوگ داخل ہوئے۔رپورٹوں میں ذکر آگیا۔نعرہ ہائے تکبیر بلند ہو گئے اور پھر دو سال چار سال کے بعد نظر ڈال کے دیکھی تو پتا چلا کہ وہ سارے علاقے آہستہ آہستہ عدم تربیت کا شکار ہو کر واپس اپنے اپنے مقام پر چلے گئے ہیں۔یہ وہ خطرات ہیں جن کے پیش نظر قرآن کریم نے حیرت انگیز طور پر ایسی خوبصورت نصیحت ہمارے سامنے رکھی ہے کہ مضمون کے ہر پہلو پر نظر ڈالتے ہوئے نہایت ہی عمدہ الفاظ میں کامل احتیاطوں کے ساتھ ایک ایسا مضمون ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے کہ جس کے اندر ہماری ساری تربیتی ضرورتیں پوری ہوتی