خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 264

خطبات طاہر جلد ۹ 264 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء قرآن کریم کے جو درس جاری کئے جاتے ہیں یا سالانہ کلاسز کا انتظام کیا جاتا ہے اس میں آپ طالب علموں کو بحیثیت طالب علم کچھ سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن کریم کی اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے استاد بنانا ہے۔طالب علم نہیں بنانا۔اب ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے۔ایک بچے کو اس غرض سے پڑھایا جائے کہ وہ خود بات سمجھ لے اور اس کی ذات تک اس کو علم حاصل ہو جائے۔یہ ایک اور بات ہے لیکن اس نیت سے پڑھایا جائے کہ وہ جا کر دوسروں کو پڑھا جاسکے۔یہ ایک بالکل اور بات ہے۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے ہٹلر کے ایک جرنیل کی تجویز کا کہ جب جرمنی میں یہ پابندی تھی کہ ایک لاکھ سے زیادہ جرمن فوج نہیں ہو سکتی یعنی جرمن قوم ایک لاکھ سے زیادہ فوج رکھ نہیں سکتی تو اس قابل جرنیل نے یہ تجویز ہٹلر کے سامنے پیش کی کہ بجائے اس کے کہ ہم ایک لاکھ سپاہی پیدا کریں۔کیوں نہ ہم ایک لاکھ سپاہی بنانے والے افسر بنادیں تعداد کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ایک لاکھ ہی رہے گا لیکن بجائے اس کے کہ ہم شاگرد بنا ئیں۔استاد پیدا کرتے ہیں۔یہ ترکیب بڑی مشہور ہوئی اور دنیا میں بعد میں بھی بڑے بڑے اس پر تبصرے کئے گئے۔چرچل نے اپنی مشہور کتاب میں بھی اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ اس کے دماغ کی ایک حیرت انگیز Brain Wave تھی جس نے ساری جرمن قوم کی کایا پلٹ دی اور ہماری آنکھوں کے نیچے حیرت انگیز طور پر اس قوم میں یہ صلاحیت پیدا ہو گئی کہ وہ آخری شکل میں لکھو کھا بلکہ قریباً ایک کروڑ تک سپاہی پیدا کر سکے ہیں۔تو یہ ترکیب جو اس کے دماغ کی Wave بتائی جاتی ہے آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کو خود کھائی تھی۔اور اسی آیت میں اس کا بیان ہے۔فرمایا : دیکھو ایسے طالب علم نہ تیار کر وجوعلم کو اپنی ذات تک رکھیں اور خود علم حاصل کریں بلکہ ایسے اساتذہ تیار کرو جو تفقه فی الدین حاصل کرنے کے بعد بطور استاد اپنی قوموں کی طرف واپس لوٹ سکیں۔اس پہلو سے افریقہ میں ہمیں بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔کئی ایسے ممالک ہیں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے کثرت کے ساتھ احمدیت پھیلنی شروع ہو چکی ہے اور عیسائیوں میں سے بھی لوگ بڑی کثرت سے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور غیر احمدی مسلمانوں میں سے بھی ، وہاں کے امراء کے لئے ضروری ہے کہ ان میں تحریک کر کے صرف وہاں جا کر تربیت کے لئے اپنے مربیوں کو