خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 250
خطبات طاہر جلد ۹ 250 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء ہیں اور صاف کر کے پھر جب ڈبوتے ہیں تو وہ رنگ قبول کر لیتا ہے۔تو ہر شخص جو عبادت کے لئے کہیں جاتا ہے وہ جب واپس آتا ہے تو اس میں کچھ تبدیلی ہونی چاہئے۔یعنی جب وہ خدا سے ملاقات کر کے آئے واپس آکے ویسے کا ویسا ہے تو یہ عجیب سی بات ہے۔کم سے کم اتنا ہی کرے کہ جب ملاقات کر کے آئے تو محسوس کرے کہ میں کسی بڑے گھر سے واپس آیا ہوں اور کچھ دیر اپنی عادات میں کچھ پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔جب کسی کو کوئی منصب نصیب ہوتا ہے تو اس کے اردگرد کے لوگ بھی اس ذمہ داری کو محسوس کرنے لگ جاتے ہیں کچھ فرق محسوس کرتے ہیں۔پس عبادت کا ایک عام نتیجہ نکلتا رہنا چاہئے کہ عبادت کرنے والا زیادہ سے زیادہ خدائی رنگ اختیار کرتا چلا جائے اور یہ شعور اس میں پیدا ہوتا چلا جائے کہ چونکہ میں عبادت کرنے والا ہوں اس لئے عام انسانوں سے بڑھ کر مجھ پر ذمہ داریاں ہیں۔عام انسانوں سے بڑھ کر مجھے باوقار ہونا چاہئے اور میری عادات اور خصلتوں میں کچھ خدا کے رنگ چڑھنے چاہئیں اگر وہ رنگ نہیں چڑھتے۔اگر وہ بنی نوع انسان سے جیسے پہلے بدسلوکی کیا کرتا تھا ویسے ہی بدسلوکی کرتا چلا جاتا ہے۔اگر وہ ویسے ہی لوگوں کے اموال کھاتا ہے، اگر ویسے ہی وہ غریبوں پر ظلم کرتا ہے، اگر ویسے ہی بد دیانتی سے پیش آتا ہے، ویسے ہی ترش روئی سے پیش آتا ہے، اپنے اہل وعیال کے حقوق ادا نہیں کرتا ، ان سے نرمی کا سلوک نہیں کرتا یا بیوی ہے تو اپنے خاوند کے حقوق ادا نہیں کرتی، بچوں کے ساتھ حسن خلق کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا ،رشتے داروں کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، بدمعا لگی کی جاتی ہے۔یعنی یہ سارے معاملات اور اس قسم کے بہت سے ہیں جن میں روزانہ کچی عبادت کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ فرق ہونا چاہئے۔یہ ناممکن ہے کہ عبادت سچی ہو اور ان تمام امور میں جن کا میں نے ذکر کیا ہے بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں کوئی نہ کوئی پاک تبدیلی نہ پیدا ہونی شروع ہو جائے۔پس جب نہیں ہوتی تو آپ کے دل میں سوال اٹھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا تھا کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا عُر کے بعد میسر نصیب ہوا کرتا ہے۔میرے حصے میں تو صرف عسر ہی آرہا ہے۔میں تو پانچ وقت وضو کرتا ہوں ، محنت کرتا ہوں ،مسجد کے چکر لگاتا ہوں یا گھر میں ٹکریں مارتا ہوں اور کچھ تکلیف اٹھاتا ہوں مگر وہ یسر کہاں چلا گیا جس کو خدا رغبت فرماتا ہے مجھے تو وہ نصیب نہیں ہوئی اور میرے اندر وہ تبدیلیاں پیدا نہیں ہوئیں جن کے نتیجہ میں خلق خدا سمجھے کہ یہ خدا والا انسان ہے۔اس سے روز مرہ ہر شخص اپنی اپنی