خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد ۹ 208 خطبه جمعه ۱۳ار اپریل ۱۹۹۰ء ہے۔اس کو آپ جتنی دفعہ پڑھیں ، آپ پھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کی اس تڑپ کا تصور نہیں باندھ سکتے کیونکہ اس کے لئے کچھ نہ کچھ تجر بہ ضروری ہے۔فرماتے ہیں۔ے ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں و شخص جس کی ساری زندگی خدمت میں وقف ہو، جس کی ہر راہ خدا کی طرف جانے والی ہو اس کے دل کا یہ حال ہے: ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں اس کو بجز کہتے ہیں۔حقیقی بجز یہ ہے۔عرض کرتے ہیں۔محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر ہے کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی ( در ثمین صفحه ۵۴) فسبحان الذى اخزى الأعادي پس یہ جو بجز کا مضمون ہے کہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام نے عشق سے باندھ دیا ہے اور تمام راہوں کا خلاصہ جو خدا کی طرف لے کر جاتی ہیں ان چند شعروں میں بیان کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بچے عجز کی راہ سچی محبت کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتی اور یہی وہ عجز کی راہ ہے جس کی تلاش میں ہمیں سرگرداں رہنا چاہئے۔جس کے لئے ہمیں اس رمضان میں خصوصیت سے دعا کرتے رہنا چاہئے کہ ہمیں سچا بجز نصیب ہو اور تکبر کا ہر پہاڑ ہمارے وجود میں سے ملیا میٹ ہو جائے اور ہماری زمین خدا کے حضور اس طرح بچھ جائے جس طرح روح بعض دفعہ خدا کے حضور اس کی محبت میں بچھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس طرح ہمارا سارا وجود خدا کے لئے ہمیشہ بچھ جائے اور یہ