خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد ۹ 207 خطبه جمعه ۱۳ار اپریل ۱۹۹۰ء حضور پڑا رہتا ہے۔اسی لئے اس آیت نے بڑے ہی حسین انداز میں خدا کے حضور ان کی حاضری کا مضمون بیان فرمایا۔اِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ ا محمد ﷺ وہ لوگ جو تیرے رب کے حضور رہتے ہیں ہر وقت خدا کی آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں ان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔پس لقاء جو ہے وہ رب کے حضور رہنا ہی تو ہے۔لقاء کے مضمون کو سمجھنے کے لئے عجز کا مضمون سمجھنا چاہئے اور اس کے برعکس تکبر کا مضمون سمجھنا چاہئے۔عجز کی راہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور تکبر کی ہر شکل سے نجات حاصل کرنے کے لئے جدو جہد کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے توفیق کے بغیر انسان اپنے نفس کے تکبر سے آگاہ ہی نہیں ہوسکتا۔جب اس کو علم ہی نہیں ہو گا کہ مجھ میں کس کس رنگ کا تکبر پایا جاتا ہے تو کیسے وہ اس تکبر سے بیچ کر وصل کی راہ تلاش کرسکتا ہے۔قرآن کریم نے جو فرمایا۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) العنكبوت : ۷۰ ) وہ لوگ جو ہماری راہوں پر ۷۰) قدم بڑھاتے ہیں۔ہماری خاطر مختلف راہوں سے چل کے آتے ہیں۔ہم ان کو اپنی راہ کی ہدایت دیتے ہیں۔ہم ان کو اپنی ذات کی طرف چلے آنے کی توفیق عطا کرتے ہیں۔لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں ایک جوابی دعا کے رنگ میں یا بے اختیار خواہش کے رنگ میں پایا جاتا ہے۔آپ عرض کرتے ہیں۔ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں کیسی بے اختیار عشق کی آواز ہے۔اے میرے آقا! میں جانتا ہوں کہ بہت سی راہیں ہیں لیکن اتنی راہیں کہ دل جس طرح Excitement کی وجہ سے مرتعش ہو گیا ہے۔اس میں ایک اضطراب پیدا ہو گیا ہے، کس کو پکڑوں میں اس کو ، اس کو ، کن کن راہوں سے تیرے حضور حاضر ہوں۔یہ جو عشق کی بے اختیار آواز ہے اس کے پیچھے ایک بہت گہری تڑپ پائی جاتی ہے۔کوئی انسان جسے ادنی سا بھی نفسیات کا شعور ہو، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کو سننے کے بعد آپ کے متعلق یہ وہم بھی نہیں کر سکتا کہ یہ شخص نعوذ باللہ جھوٹا ہے، خدا پر جھوٹ بولنے والا شخص ہے۔یہ بے قرار تڑپ گہری سچائی کے نتیجے میں نصیب ہوتی ہے اور گہرے عشق کے نتیجے میں نصیب ہوتی