خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد ۹ 200 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۹۰ء اپنے تئیں کچھ چیز قرار دیتا ہے۔کیا خدا قادر نہیں کہ اس کو دیوانہ کردے اور اس کے اس بھائی کو جس کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے اس سے بہتر ہنر عقل اور علم اور ہنر دے دے۔ایسا ہی وہ شخص جو اپنے کسی مال یا جاہ و حشمت کا تصور کر کے اپنے بھائی کو حقیر سمجھتا ہے وہ بھی متکبر ہے کیونکہ وہ اس بات کو بھول گیا ہے کہ یہ جاہ و حشمت خدا نے ہی اس کو دی تھی اور وہ اندھا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ خدا قادر ہے کہ اس پر ایک ایسی گردش نازل کرے کہ وہ ایکدم میں اَسْفَلَ سَفِلِينَ (التین :۶ ) میں جا پڑے اور اس کے اس بھائی کو جس کو وہ حقیر سمجھتا ہے اس سے بہتر مال و دولت عطا کر دے۔ایسا ہی وہ شخص جو اپنی صحت بدنی پر غرور کرتا ہے۔یا اپنے حسن اور جمال اور قوت اور طاقت پر نازاں ہے اور اپنے بھائی کا ٹھٹھے اور استہزاء سے حقارت آمیز نام رکھتا ہے اور اس کے بدنی عیوب لوگوں کو سناتا ہے وہ بھی متکبر ہے اور وہ اس خدا سے بے خبر ہے کہ ایک دم میں اس پر ایسے بدنی عیوب نازل کرے کہ اس بھائی سے اس کو بدتر کر دے اور وہ جس کی تحقیر کی گئی ہے ایک مدت دراز تک اس کے قومی میں برکت دے کہ وہ کم نہ ہوں اور نہ باطل ہوں کیونکہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ایسا ہی وہ شخص بھی جو " اپنی طاقتوں پر بھروسہ کر کے دعا مانگنے میں ست ہے وہ بھی متکبر ہے۔۔یہ ایک بہت ہی اہم مضمون ہے جس کے متعلق کچھ مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں عام طور پر یہ محاورہ ہے کہ اب تو ہمارا کچھ بھی نہیں رہا اس لئے دعا کرتے ہیں۔اب تو کوئی اور شکل نہیں باقی رہی گویا اس سے پہلے وہ خود اپنے کفیل تھے اور اس فقرے کے اندر ایک تکبر پوشیدہ ہے اور دعا کی قبولیت کا مانع رجحان اس میں پایا جاتا ہے۔پس حقیقی طور پر دعا کے مضمون اور مفہوم کو سمجھنے والا وہی انسان ہے جو طاقتوں کے باوجود یہ یقین رکھتا ہو کہ ان طاقتوں میں فی ذاتہ کچھ حاصل کرنے کی استطاعت نہیں جب تک خدا کا فضل شامل حال نہ ہو۔اس لئے یہ جو تکبر کا مضمون ہے اس کو آپ دیکھیں تو کتنا باریک تر ہوتا چلا جاتا ہے اور تکبر دکھانے کے لئے بھی ایک عارف باللہ کی انگلی چاہئے۔جس نے اپنے وجود کا بہت ہی بار یک نظر سے مطالعہ کیا ہے اور اپنے گرد و پیش کا بھی