خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 199
خطبات طاہر جلد ۹ 199 خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۹۰ء پھر فرماتے ہیں: ے کرم خاک چھوڑ دے کبروغرو رکو زیبا ہے کبر حضرت رب غیور کو بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں چھوڑو غرور و کبر کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولا اسی میں ہے (درین صفحہ ۱۱۲۰ ۱۱۳) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلانہیں یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رسوا کرتی ہے۔66 خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔۔یہ لفظ موحد ہی لکھا ہوا ہے مگر ہو سکتا ہے کوئی اس میں لفظ چھٹ گیا ہو۔موحد کے مرض کا ( تدارک) مراد معلوم ہوتی ہے ہر تو حید پرست کی بیماریوں کا ازالہ فرماتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔شیطان بھی موحد ہونے کا دم مارتا تھا مگر چونکہ اس کے سر میں وو تکبر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا جب اس نے توہین کی نظر سے دیکھا اور اس کی نکتہ چینی کی اس لئے وہ مارا گیا اور طوق لعنت اس کی گردن میں ڈالا گیا۔سو پہلا گناہ جس سے ایک شخص ہمیشہ کے لئے ہلاک ہوا تکبر ہی تھا“۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد : ۵، صفحه: ۵۹۸) یعنی شیطان کے موحد ہونے کے باوجود تکبر اس کی ہلاکت کا موجب بن گیا۔پھر فرماتے ہیں: میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔مگر تم شاید نہیں سمجھو گے کہ تکبر کیا چیز ہے۔پس مجھ سے سمجھ لو میں خدا کی روح سے بولتا ہوں۔ہر ایک شخص جو اپنے بھائی کو اس لئے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے عالم یا زیادہ عقلمند یا زیادہ ہنر مند ہے وہ متکبر ہے کیونکہ وہ خدا کو سر چشمہ عقل اور علم کا نہیں سمجھتا اور