خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد ۹ 184 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء بجز کا احساس ہوگا۔وہ یہ سمجھے گا کہ یہ جو بلندیاں اور یہ حجم اور یہ وزن اور یہ طاقت ایسی غالب ہیں کہ اس کے مقابل پر اس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن یہ حقیقی بحجر نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسان وہاں بجز کا احساس کرتے ہوئے جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتا ہے۔پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر وہ سارے عالم کا نظارہ کرتا ہے تو اس کا دل تکبر سے بھر جاتا ہے وہ سمجھتا ہے دیکھو! میں کتنا بلند ہوں۔ہر دوسری چیز میرے سامنے حقیر اور ادنی اور چھوٹی دکھائی دیتی ہے لیکن ایک اور شخص جس کے دل میں عجز ہے جس کا رحجان عاجزانہ ہے، وہ پہاڑ کے نیچے بھی عاجز رہے گا اور پہاڑ کے اوپر بھی عاجز رہے گا دنیا کی کوئی کیفیت بھی اس کے عاجزانہ رحجان کو تبدیل نہیں کر سکتی۔یہ وہ بجز ہے جو عارف باللہ کا بجز ہے جس کے بعد پھر لقاء نصیب ہوا کرتی ہے۔انبیاء ہرشان میں عاجز ہوتے ہیں۔نبوت سے پہلے کی شان میں بھی عاجز ہوتے ہیں اور نبوت کے بعد کی شان میں بھی عاجز ہوتے ہیں اور درحقیقت جتنا جتنا ان کو بلندی نصیب ہوتی ہے اتنا ان کا عجز بڑھتا ہے۔چنانچہ نبوت سے پہلے کے عجز کی کیفیت اور ہوا کرتی ہے اور نبوت کے بعد کے عجز کی کیفیت اور ہوتی ہے کیونکہ بلندی سے بلندی کا عرفان بڑھتا ہے۔ایک شخص جو پہاڑ کے نیچے سے پہاڑ کی چوٹی کو دیکھ رہا ہے اگر اس کی نظر چوٹی پر جا کر ٹھہر گئی ہے تو اس کا بجز اسی نسبت سے ہوگا جس نسبت سے اس کو پہاڑ زیادہ سر بفلک دکھائی دے رہا ہے زیادہ بلند دکھائی دے رہا ہے لیکن ایک شخص جو پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتا ہے اور مزید بلندیاں دیکھتا ہے اس کے دل کی کیفیت بالکل اور ہو جایا کرتی ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں تو اسی کو چوٹی سمجھ رہا تھا صرف میں ہی بے حقیقت نہیں۔یہ پہاڑ بھی بے حقیقت ہے اس کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔جو رفعتیں مجھے ظاہری آنکھ سے دکھائی دیتی تھیں ان رفعتوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔میرے خدا کی کائنات تو بہت وسیع ہے۔بلند سے بلند تر ہر منزل کے بعد ایک اور منزل۔یہی مضمون ہے جس کو حضرت اقدس ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جب بیان فرمایا تو اس کا ذکر قرآن کریم میں پڑھ کر بہت سے مفسرین دھوکہ کھا گئے اور سمجھ نہیں سکے۔وہ سمجھے کہ نعوذ باللہ یہ جھوٹ کی ایک قسم ہے یا شرک کی ایک قسم ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ دیکھا اور کہا اچھا دیکھو! کیسا روشن ہے شاید یہی ہمارا خدا ہو۔مراد یہ نہیں تھی کہ میرا خدا ہے یا تمہارا خدا ہے مراد یہ تھی کہ تم لوگ اس طرح مرعوب ہوتے ہو تم لوگ جو عرفان سے عاری ہو ہر بلند چمکنے والی چیز کو بڑا سمجھنے لگ جاتے ہو اور اس کے سامنے جھکتے ہو حالانکہ وہ ذات جو ماوراء ہے ان سے