خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 176

خطبات طاہر جلد ۹ 176 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء صالحہ ایاز بیگم اہلیہ مختار احمد صاحب ایاز۔والدہ افتخار احمد صاحب ایاز جوطوالو کے ہمارے فاتح ہیں۔ماشاء اللہ جنہوں نے طوالو میں طوعی طور پر دعوت الی اللہ کا کام کر کے جماعت قائم کی جس سے آگے پھر وہ بنیاد بنی جس کے نتیجے میں ہم نے پھر اللہ کے فضل سے South Pecific کے جزائر پر اسلام کا ہلہ بولا ہے اور ایسے ایسے جزائر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام نافذ ہوا ہے۔جہاں اس سے پہلے کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔پس یہ ان فتوحات کا پیش خیمہ بنا ہے۔ان کی والدہ کا بھی خاص طور پر ذکر کرنا ضروری تھا۔اسی طرح ہمارے ڈاکٹر نصیر احمد صاحب چوہدری جو امریکہ میں ہیں، بہت ہی مخلص اور قربانی کے میدان میں پیش پیش ان کے والد چوہدری ناصر احمد صاحب امریکہ میں وفات پاگئے۔ان کا بھی میں نے وعدہ کیا ہوا تھا لیکن مجھے اب پتہ لگا ہے کہ جنازہ پہلے نہیں ہو سکا تھا۔عنایت اللہ صاحب والد مکرم چوہدری نعمت اللہ صاحب۔یہ بھی سلسلے کے ایک فدائی خاندان سے تعلق رکھنے والے بزرگ ہیں۔پروفیسر عطاء الرحمن صاحب مرحوم کی اہلیہ وفات پاگئی ہیں۔اسی طرح کراچی کے ڈاکٹر طاہر کی بیگم ڈاکٹر زبیدہ طاہر ہاشمی جو سلسلے کی ایک بہت ہی مخلص خادمہ تھیں، وہ بھی کینسر میں کچھ عرصہ تکلیف اٹھا کر وفات پاگئی ہیں۔اور آپ کی جماعت میں ایک ابھی تازہ حادثہ ہوا ہے یعنی چوہدری شاہنواز صاحب کے وصال کی اطلاع لاہور سے ملی ہے۔یہ جماعت لندن کے بہت ہی مخلص اور فدائی ممبر تھے اور جب سے میں یہاں آیا ہوں میں نے ان کو نصرت کے میدانوں میں ہمیشہ صف اول میں دیکھا ہے۔جب بھی کوئی تحریک ہوئی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے فوری طور پر انہوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ اس رنگ میں کہ اپنے خاندان کو اپنے طور پر حصہ لینے کی شہہ دلائی اور ایک ہی تحریک میں دونوں الگ الگ حصہ لیتے رہے۔چوہدری شاہنواز صاحب اپنے طور پر اور ان کے بچے ، بہوئیں ، بیٹیاں اور داماد وغیرہ یہ سارے اپنے طور پر اکٹھا حصہ لیتے رہے۔ان کا مجھ سے تعلق رفتہ رفتہ بڑھا ہے۔پہلے میں ان سے بہت زیادہ متعارف نہیں تھا لیکن شروع میں جب خلافت کے بعد انہوں نے مجھ سے گہرا رابطہ قائم کیا تو حجاب کے طور پر یہ اس طرح اپنا تعارف کرایا کرتے تھے کہ میں خود تو شاید خلافت سے تعلق میں اتنا مرتبہ نہیں رکھتا ہوں لیکن میری