خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد ۹ 153 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۹۰ء اُس کو دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیونکہ جماعت احمد یہ تو بالکل غیر معروف تھی کسی کو کانوں کان بھی خبر نہیں تھی کہ جماعت احمدیہ کوئی موجود ہے لیکن دیکھتے دیکھتے ساری فضا پلٹ گئی۔کوئی ریڈیو سے رابطہ نہیں تھا لیکن کیونکہ ایسی مجلس جس میں معززین تشریف لائیں وہاں ٹیلی ویژین اور ریڈیو کوخود بخود دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اس لئے نیشنل ٹیلی ویژین کی ایک نمائندہ وہاں تشریف لائی ہوئی تھی انہوں نے ساری تقریب کی کارروائی کو ٹیلی وائز کیا اور پھر ہمیں بتایا کہ کل یہ فلاں وقت نشر ہوگی اور یہ بھی وعدہ کیا کہ میں اس کی مکمل کاپی آپ کو دے دوں گی تا کہ آپ بھی اس سے استفادہ کریں۔بعض ایمبیسیڈ رز جو مشرقی یورپ سے تعلق رکھتے تھے ان کے اندر ایسی جلدی جلدی تبدیلی پیدا ہوئی کہ ایک ایمبیسیڈر نے تو دونوں ہاتھوں سے میرا ہاتھ پکڑ کر جانے سے پہلے بارہا یہ کہا کہ I am deeply touched کہ میرے دل میں گہرائی تک اثر ہو گیا ہے اور وہ ہاتھ ہی نہیں چھوڑتے تھے، زیادہ انگریزی نہیں آتی تھی یہی فقرہ بار بار کہے جاتے تھے اور پھر اپنے کارڈز دیئے اور آئندہ مستقل تعلق رکھنے کی تاکید کی۔ایک ایمبیسیڈ رصاحب کا وہاں جہاں مشن ہاؤس میں ہمارا قیام تھا وہاں پہنچتے پہنچتے فون آگیا کہ میں تو دوبارہ ملنا چاہتا ہوں۔مجھے آپ دوبارہ وقت دیں چنانچہ دوسرے روز پھر ہم اُن کے ہاں حاضر ہوئے اور بڑی محبت کے ماحول میں گفتگو ہوئی جو موضوع تھا گفتگو کا وہ یہ تھا کہ ہمارے ملک میں آپ جلدی پہنچیں اور کس طرح پہنچیں ؟ اس سلسلے میں انہوں نے مجھ سے باتیں کیں کہ میں مدد کرنا چاہتا ہوں اور اگر آپ آنا چاہیں دروازے کھلے ہیں اور میں اپنی حکومت سے رابطہ کرتا ہوں میں یہ وعدہ تو نہیں کر سکتا کہ میں سو فیصدی کامیاب ہو جاؤں گا لیکن میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی انتہائی کوشش ضرور کروں گا کیونکہ انہوں نے بتایا کہ میرے نزدیک ہمارے ملک کو جماعت احمدیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ وہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا ورنہ انسان کہاں یہ تبدیلیاں دلوں میں پیدا کر سکتا ہے۔یہ اُس خاص سال کی برکت ہی ہے جسے جشن تشکر کا سال کہتے ہیں اور چونکہ وہ مباہلے کا بھی سال تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اسے دہری برکتیں دی ہیں، غیر معمولی کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں۔سپین میں جا کر بھی یہی حال ہوا وہاں جب ریسپشن دی گئی تو وہاں کے دو گورنر تشریف لائے ہوئے تھے اور ایک گورنر تو اجازت لے کر چلے گئے لیکن ایک گورنر اس صوبے کے وہاں بیٹھے