خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد ۹ 152 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۹۰ء تھیں اور ان نو میں آگے پھر پھلنے کا جذ بہ پایا جا تا تھا۔ان میں سے ایک جو خالص پرتگالی نسل کے تھے وہ دیکھنے میں بالکل سادہ اور یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ جذباتی ہوں گے لیکن ان کی شخصیت کے اندر چھپے ہوئے بعض ایسے خواص تھے جو رفتہ رفتہ ظاہر ہونے شروع ہوئے۔بہت کم گو اور اپنے جذبات کو ضائع نہ کرنے والا مزاج تھا لیکن جب ان سے رخصت ہو کر ہم سپین پہنچے تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں وہ استقبال کے لئے کھڑے تھے۔جو ان کی زبان جانتے تھے میں نے اُن سے کہا کہ پوچھو کہ ہم ان کو الوداع کہہ کے آئے تھے اور انہوں نے ہمیں رخصت کیا تھا یہ یہاں کہاں سے آگئے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ سے پہلے سے یہاں پہ پہنچے ہوئے ہیں۔آکے انہوں نے ہمیں یہ بتایا کہ رخصت کر کے مجھے بے چینی لگ گئی اور میں نے کہا کہ جب تک میرا بس ہے میں ساتھ ضرور دوں گا۔چنانچہ جاتے ہی وہاں جو استقبال کی تیاریاں تھیں اُن میں سب سے زیادہ اُنہوں نے محنت کی۔جو جھنڈیاں لگائیں اُنہوں نے لگائیں، جھاڑو اپنے ہاتھ سے دیئے اور حیرت انگیز اخلاص کا اظہار کیا جس سے سپین کی جماعت کو بھی بڑی روحانی تقویت ملی۔جو دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے بعض افریقن ممالک کے دوست تھے جو پرتگیزی اثر کے نیچے ہیں ان میں بھی میں نے بہت ہی جذبہ دیکھا اور تمام پرتگال کے معززین کی بہترین نمائندگی ہماری ریسپشن (Reception) میں ہوئی۔اس سلسلے میں میں گزشتہ خطبے میں کچھ ذکر کر چکا ہوں ان باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں زمین تیار ہے اور بہت تیزی سے جماعت احمدیہ کی محبت بڑھ رہی ہے۔ٹیلی ویژن نے ، ریڈیونے ، اخبارات نے جماعت احمدیہ کے چرچے کئے اور جہاں جہاں بھی ہم ٹھہرے اور جہاں جہاں بھی ہمارے رابطے ہوئے وہاں ہم نے غیر معمولی محبت ، جوابی محبت کو اُبھرتے ہوئے دیکھا اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسے رابطے پیدا ہوئے جن سے انشاء اللہ تعالیٰ نہ صرف اُس ملک میں بلکہ اور بھی دوسرے ملکوں میں احمدیت کی داغ بیل ڈالنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔مثلاً ہماری ریسپشن میں وہاں کی تمام پارٹیوں کے نمائندگان شامل تھے اور مقامی طور پر حکومت کے نمائندگان اور معزز شخصیتیں بھی لیکن اس کے علاوہ بہت سے دیگر ممالک کے ایمبیسیڈ رز تشریف لائے ہوئے تھے اور اُن ایمبیسڈرز نے جس طرح سوال و جواب میں حصہ لیا اور اُس کے بعد جس محبت سے اظہار کیا ہے