خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 135

خطبات طاہر جلد ۹ 135 خطبہ جمعہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء کے امیر ترین علاقوں میں شامل ہے۔جہاں تک ان قلعوں کا تعلق ہے جو اس چھوٹے سے قصبے کے اردگرد موجود ہیں ان میں تین قلعے بہت نمایاں اہمیت رکھتے ہیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر وہ آج بھی یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سنتری پہرہ دے رہے ہوں۔دور دور تک اس علاقے پر ان چوٹیوں سے نظر پڑتی ہے اور وہ قلعے نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ایک قلعہ جس میں آج صبح ہمیں پھر کر مختلف پہلوؤں سے دیکھنے کا موقع ملا وہ شاطبیہ کا قلعہ کہلاتا ہے اور ان سب قلعوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔اس میں حیرت انگیز صناعی کے کام کئے گئے ہیں۔پانی کی حفاظت کا ایسا انتظام ہے کہ پہاڑی کھود کر زمین کے نیچے اتنے بڑے بڑے پانی کے ذخائر بنائے گئے ہیں کہ اگر اردگرد محاصرے کے نتیجے میں سال بھر بھی وہاں کے لوگوں کو محصور رہنا پڑے تو پانی کی کمی محسوس نہ ہو اور سال بھر سے مراد یہ ہے کہ پھر ہمیشہ کے لئے کیونکہ ہر سال اتنی بارش اس علاقے میں ہو جاتی ہے کہ قلعے میں اس کا پانی محفوظ کرنے کا انتظام ہوتو پھر کبھی بھی بیرونی ضرورت محسوس نہیں ہو سکتی۔وہ بہت بڑے بڑے ذخائر ایک عرصے تک یہاں استعمال میں آتے رہے لیکن اب چونکہ ان کی صفائی کا انتظام موجودہ حالات میں مشکل ہے اس لئے ان کو بند کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ زیر زمین سرنگیں ہیں جو قلعے کے ایک مقام کو دوسرے مقام سے ملاتی ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہاں جو پرانے خاندان قلعے کے حالات سے واقف بسے ہوئے ہیں ان میں سے ایک نے ہمیں بتایا کہ پرانے آباؤ اجداد سے ہم لوگ یہ سنتے آئے ہیں کہ پہلے ایسی سرنگیں بھی تھیں جو ان تینوں قلعوں کو آپس میں ملاتی تھیں بلکہ دور دور کے قلعوں کو بھی اس قلعے سے ملاتی تھیں۔چنانچہ اگر کسی ایک جگہ بھی دشمن کی طرف سے حملہ ہو تو مسلمان فوجیں دوسری ساتھی فوجوں کی حفاظت کے لئے یا قلعوں کی حفاظت کے لئے زیر زمین لمبے سفر طے کر کے پہنچ جایا کرتی تھیں۔یہ ایک حیرت انگیز نظام ہے اور یقین نہیں آسکتا کہ کس طرح کس نے اتنی عظیم ہمت سے کام لیا ہو۔ایک سنگلاخ زمین میں تو قبر کھودنا بھی مصیبت کا کام ہوا کرتا ہے کجا یہ کہ ان پہاڑوں کا سینہ چیر کے اتنے وسیع نظام قائم کر دیئے گئے ہوں۔لازماً یہ محنت کا عرصہ سینکڑوں سال تک پھیلا ہوگا اور سینکڑوں سال کی یہ محنت معلوم ہوتا ہے ہزار ہا سال تک اسی طرح جاری وساری رہے گی اور آئندہ آنے والی نسلیں دیکھ کر ان لوگوں کے عزم اور ہمت پر تعجب کیا کریں گی۔