خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 97

خطبات طاہر جلد ۹ 97 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء آپ نے تیزی سے اسلام پھیلا بھی دیا تو اس کے نتیجے میں انکی اپنی تہذیب ہے ، ان کا اپنا تمدن ہے جس کا ایک بڑا حصہ نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے بلکہ اسلام کی روح سے ٹکرانے والا ہے۔یہ آسان کام نہیں ہے کہ ان کے دل اپنے تمدن اور اپنی تہذیب سے توڑ کر اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کو اپنانے کی طرف مائل کئے جاسکیں۔چند خاندان جو اسلام قبول کرتے ہیں ان پر بھی مجھے علم ہے کہ ہمیں کتنی محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے لازماً احمدیت کے لئے آئندہ دنیا میں تبدیلیاں پیدا کرنے کیلئے جو مواد کی ضرورت ہے وہ عالم اسلام سے مہیا ہوگا اور عالم اسلام کے بغیر ہم عظیم الشان انقلاب برپا نہیں کر سکتے۔اس لئے علماء کی اگر چہ لاکھ یہ کوشش ہے کہ جماعت احمدیہ کو عالم اسلام سے تو ڑ کر الگ پھینک دیا جائے لیکن کسی قیمت پر بھی جماعت احمدیہ نے عالم اسلام سے جدا نہیں ہونا۔ان کے مظالم کو منتقمانہ ردعمل کے طور پر اپنے دلوں میں پیدا نہیں ہونے دینا۔یاد رکھیں اس بات کو جب بھی آپ کا دل مسلمان ظالموں کے خلاف انتقامی جذبات سے بھرے گا وہیں آپ کی شکست کے آثار شروع ہو جائیں گے۔یہ وہ قوم ہے جس قوم میں زندگی کے آثار آج بھی موجود ہیں۔آئندہ انقلابات کی بنیادیں مسلمان عوام سے اٹھائی جائیں گی اور لازماً جماعت احمدیہ کو ان کے دل جیتے ہیں، آج نہیں تو کل نہیں تو پرسوں لازماً یہ وہ دل ہیں جن کو جماعت احمدیہ کیلئے بنایا گیا ہے۔جماعت احمد یہ ان کو جیتے گی اور پھر حضرت اقدس محمد مصطفی عمل کا بر پا کرده انقلاب از سر نو تمام عالم میں بپا کیا جائے گا۔پس اس بات کو ہمیشہ پلے باندھے رکھیں کبھی بھی مسلمان بھائیوں کے مظالم کے نتیجے میں اس رنگ میں دل برداشتہ نہ ہوں کہ آپ کے دل سے بددعائیں نکلنی شروع ہوں۔جلد بازی میں آپ کہنے لگیں کہ آگئی سزا۔اب یہ پکڑے جائیں گے۔اب یہ پکڑے جائیں گے۔اب یہ مارکھائیں گے۔جہاں یہ بات ہوئی وہاں یہ سمجھ لیں کہ آپ کا اپنا جسم فالج زدہ ہورہا ہے جن پر آپ کی بنا تھی وہ آزار اور مفلوج ہو جا ئیں تو آپ نے دنیا میں کام کیا کرنے ہیں۔پس آپ نے ہر گز کسی قیمت پر عالم اسلام سے جدا گانہ حیثیت ان معنوں میں اختیار نہیں کرنی کہ آپ ان سے اپنے وجود کو اس طرح الگ سمجھیں کہ ان کے سکھ اور ان کے دکھ آپ کے سکھ اور دکھ نہ رہیں اور ان سے گہری ہمدردی جو آپ اپنے دل میں رکھتے ہیں اس کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے لگے۔یہ ایک مشکل کام ہے ہمشکل فیصلہ ہے، میں جانتا ہوں کہ