خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 87

خطبات طاہر جلد ۸ 87 خطبه جمعه ارفروری ۱۹۸۹ء اور اب ہم اگر ان کی پرورش اور تربیت سے غافل رہیں تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے اور ہرگز پھر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اتفاقاًیہ واقعات ہو گئے ہیں۔اس لئے والدین کو چاہئے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہری نظر رکھیں اور جیسا کہ میں بیان کروں گا بعض تربیتی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اور اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنے تابع طبع کے لحاظ سے وقف کے اہل نہیں ہے تو اُن کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہئے کہ میں نے تو اپنی صاف نیت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بد قسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں اگر ان کے باوجود جماعت اس کو لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں اور نہ اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے۔پس اس طریق پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اب ہمیں آئندہ ان واقفین نو کی تربیت کرنی ہے۔جہاں تک اخلاق حسنہ کا تعلق ہے اس سلسلے میں جو صفات جماعت میں نظر آنی چاہئیں وہی صفات واقفین میں بھی نظر آنی چاہئیں بلکہ بدرجہ اولی نظر آنی چاہئیں۔ان صفات حسنہ سے متعلق ، ان اخلاق سے متعلق میں مختلف خطبات میں آپ کے سامنے مختلف پروگرام رکھتا رہا ہوں اور اُن سب کو ان بچوں کی تربیت میں خصوصیت سے پیش نظر رکھیں۔خلاصہ ہر واقف زندگی بچہ جو وقف نو میں شامل ہے، بچپن سے ہی اُس کو بیچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہونی چاہئے اور یہ نفرت اُس کو گویا ماں کے دودھ میں ملنی چاہئے اور باپ کی پرورش کی بانہوں میں۔جس طرح ریڈی ایشن کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے اس طرح سچائی اُس کے دل میں ڈوبنی چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بہت بڑھ کر سچا ہونا پڑے گا۔ضروری نہیں ہے کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اُس اعلیٰ معیار پر قائم ہوں جو اعلیٰ درجے کے مومنوں کے لئے ضروری ہے اس لئے اب ان بچوں کی خاطر اُن کو اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی اور پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر میں گفتگو کا انداز بنانا ہو گا اور احتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر یا مذاق کے طور پر بھی وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے کیونکہ یہ ایک خدا کی مقدس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے اور اس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو آپ نے بہر حال پورا کرنا ہے۔اس لئے ایسے گھروں کے ماحول سچائی کے لحاظ سے نہایت صاف ستھرے اور پاکیزہ ہو جانے چاہئیں۔قناعت کے متعلق میں نے کہا تھا اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔بچپن ہی سے ان