خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 792
خطبات طاہر جلد ۸ 792 خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء سے ہی ثابت ہے کہ اس حد تک وہ ان کی تبلیغ سے مشرف بہ اسلام ہوا ہے۔حیرت انگیز بات ہے۔جماعت جو کچر با ہر پھینکتی ہے اس کو یہ سینے سے لگا لیتے ہیں اور پھر اعلان کرتے ہیں کہ ہماری فتح ہوئی، ہمارا غلبہ ہوا۔اب میں منظور چنیوٹی صاحب کے مباہلے کی حیثیت آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اسی شخص کے متعلق۔مولانا منظور چنیوٹی صاحب ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ء کو یعنی پچھلے مہینے کی ۲۲ تاریخ کو یہ اعلان کرتے ہیں جو پاکستان کے اخباروں میں شائع ہوا۔میں نے یہ اقتباس نوائے وقت سے لیا ہے۔” مرزا طاہر احمد نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو جو دعوت مباہلہ دی تھی ( الفاظ غور کے لائق ہیں۔۔۔۔دنیا بھر کے مسلمانوں کو جو دعوت مباہلہ دی تھی ) اس کا پہلا نتیجہ حسن عودہ ہے۔“ جو دعوت مباہلہ ۱۰رجون ۱۹۸۸ء کو پچھلے سال دی گئی تھی اور اس کا سال ۹رجون ۱۹۸۹ء کو ختم ہو رہا تھا اس لئے وہ سارے ملاں جھوٹے ہو گئے۔ان کے نزدیک جو یہ دعوی کرتے تھے کہ اس عرصے میں ہماری تائید میں نشان ظاہر ہوئے ہیں اور مرزا طاہر احمد اور جماعت کی تائید میں کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا اور اس مباہلے کی تاریخ گزرنے کے پانچ مہینے بعد منظور چنیوٹی صاحب اعتراف کر رہے ہیں کہ پہلا نشان ظاہر ہوا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ جس وقت یہ اقرار ہے اس سے پہلے خود ان کے ذاتی مباہلے کی تاریخ ۱۵ ستمبر کوختم ہو چکی تھی لیکن بہر حال یہ ارتداد تو چونکہ اس سے پہلے کا ہے۔ارتداد بھی نہیں کہنا چاہئے اس کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ان صاحب کو جب ہم نے فارغ کیا ہے اور حکم دیا کہ یہاں سے واپس چلے جائیں تو اس وقت یہ سزا پانے کے بعد جماعت سے علیحدہ ہوئے ہیں۔ہمارے رڈ کرنے کے بعد گئے ہیں اس لئے اس ارتداد کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہوا کرتی جس کو آپ نکال کر پھینک دیں اس کا ارتداد کیا اور عدم ارتداد کیا۔جس کو ہم نے قبول ہی نہیں کیا، جس کی بیعت ہی فتح کر دی، اس کا بعد میں یہ کہنا کہ میں مرتد ہوں بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہے۔اچھا اب یہ اعلان ہے کہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کو جو دعوت مباہلہ دی تھی ، اس کا پہلا نتیجہ حسن عودہ ہے۔سبحان اللہ کیا نتیجہ ہے یہ؟ کتنا عظیم الشان عالمگیر نشان ان کے حق میں ظاہر ہوا ہے۔