خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 791

خطبات طاہر جلد ۸ 791 خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء Racialism کا بہانہ بنا کر جب لوگوں سے انہوں نے دیکھا کہ کچھ توقع ہے کہ وہ ہاں میں ہاں ملا ئیں گے ان سے پھر یہ بات کرنا شروع کی اسی تین مہینے کے عرصے میں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پیشگوئیوں کے متعلق مجھے شک ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئیں اور اس رنگ میں ان کو انہوں نے بد کا نا شروع کیا۔جب اس کی اطلاع جون میں یعنی تین مہینے کے اندراندر ایک ایسے شخص کے ذریعے پہنچی جو پوری طرح گواہ بن گیا جس نے تحریری طور پر یہ اطلاع دی کہ مجھ سے اس نے یہ یہ باتیں کی ہیں تو اس پر ان پر کمیشن مقرر کیا گیا جس کے صدر ایک نہایت مخلص عرب مصری احمدی تھے، بشیر احمد خاں صاحب رفیق اس بورڈ کے ایک ممبر تھے اور عبدالرحیم صاحب ماریشس والے ایک ممبر تھے، انہوں نے متفقہ طور پر یہ رپورٹ پیش کی کہ یہ شخص منافق ہے، جھوٹ بولتا ہے اور ہرگز اس لائق نہیں کہ ایک منٹ بھی اس کو جماعت کے کسی کام پر رکھا جائے۔اس لئے ہم متفقہ سفارش کرتے ہیں کہ جب کہ اس کے جرائم ثابت ہیں اور بار بار کی مغفرت اور عفو کے سلوک نے ایک ذرہ بھی اصلاح پیدا نہیں کی اس لئے اس کو فوری طور پر فارغ کر دینا چاہئے۔ے جون کو میں نے کمیشن مقرر کیا ہے اسی روز کے جون کو انہوں نے تحریری طور پر مجھے لکھا اور یہ خط ہمارے پاس محفوظ ہے کہ میں بہت شرمندہ ہوں کہ اپنے شکوک کا اظہار نہ کبھی آپ سے کیا نہ علمائے سلسلہ سے بات کی۔تحریر تو لمبی ہے یہ ایک فقرہ یادرکھنے کے لائق ہے تاکہ میں اس پر بعد میں تبصرہ کرسکوں۔اخبارات میں انہوں نے یہ بیان دیا کہ جماعت احمدیہ کے متعلق مجھے بڑی مدت سے شکوک پیدا ہورہے تھے جب میں ( میرا نام لے کر ) کہ اس کے سامنے ان کو پیش کرتا تھا تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے تھے۔بالآخر میں نے آمنے سامنے کر کے چیلنج کیا کہ یہ جماعت جھوٹی ہے اور اس کے باوجود وہ مجھے مطمئن نہ کر سکے تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں جماعت کو چھوڑ دیتا ہوں اور یہ ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ۷/ جون ۱۹۸۹ ء کا ہے کہ میں شرمندہ ہوں کہ اپنے شکوک کا اظہار نہ کبھی آپ سے کیا ، نہ علمائے سلسلہ سے یہ بات کی۔اب اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنا بڑا معرکہ مارا گیا ہے جو ایسے شخص کو اپنی تحریر سے واضح طور پر قطعی جھوٹا ثابت ہے اور بد دیانت ثابت ہے اور منافق ثابت ہے۔اس کو انہوں نے جیت لیا ہے۔رہا منظور چنیوٹی صاحب کا یہ دعویٰ کہ میری تبلیغ سے یہ مشرف بہ اسلام ہوا ہے تو اس تحریر