خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 783
خطبات طاہر جلد ۸ 783 خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۸۹ء طرف ،شام مجھے یاد ہے ، عراق یاد ہے اور پھر ایران کی طرف، پھر افغانستان پھر پاکستان مختلف ملک باری باری سامنے آتے ہیں اور مضمون دماغ میں یہ کھلتا ہے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے جو عجیب واقعات رونما ہورہے ہیں جو انقلابات آ رہے ہیں ان کا آخری مقصد سوائے خدا کے کسی کو پتا نہیں ہم ان کو اتفاقی تاریخی حادثات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتفاقاً رونما ہونے والے واقعات ہیں مگر رویا میں جب وہ مل کر یہ گاتے ہیں تو اس سے یہ تاثر زیادہ قوی ہوتا چلا جاتا ہے کہ یہ اتفاقاً الگ الگ ہونے والے واقعات نہیں ہیں بلکہ واقعات کی ایک زنجیر ہے جو تقدیر بنارہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں مگر ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے۔لا یعلم الا ھو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جس کا ہاتھ یہ تقدیر بنا رہا ہے تو یہ وہ رویا تھی جو چوہدری انور حسین صاحب ان دنوں میں تشریف لائے۔ان کو بھی میں نے سُنائی۔بعض اور دوستوں کو بھی کہ یہ عجیب سی بات ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑے بڑے عظیم واقعات ان واقعات کے پس پردہ رونما ہونے والے ہیں۔ان کے پیچھے پیچھے آئیں گے۔ہم جو سیاسی اندازے کر رہے ہیں یہ کچھ اور ہیں جو خدا کے اصل مقاصد ہیں وہ کچھ اور ہیں۔تو میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ روس کی تبدیل شدہ پالیسی کا گہرا تعلق ہے۔کچھ سبق انہوں نے وہاں سیکھے ہیں کچھ اور ایسی باتیں ان تجربوں میں ظاہر ہوئی ہیں کہ جن کے نتیجے میں یہ بعد کے عن انقلابات پیدا ہونے شروع ہوئے۔پس یہ جتنے بھی واقعات آج کی دنیا میں رونما ہورہے ہیں دنیا کا ایک مؤرخ ، دنیا کا ایک سیاستدان ان کو اور نظر سے دیکھتا ہے اور فہم سے سمجھتا ہے۔مومن کے لئے تو ہر انگلی خدا کی تقدیر کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہے اور مومن ان سے اور پیغام لیتا ہے اور ان پیغاموں کی روشنی میں اپنے آپ کو مستعد کرتا ہے اور اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔پس خدا کی انگلی جو اشارے کر رہی ہے وہ اب واضح تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور وہ اشارے یہ ہیں کہ آگے بڑھو اور ساری دنیا کو محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فتح کر لو کیونکہ آج یہ دنیا اپنے دروازے تمہارے لئے کھول رہی ہے۔پس اے اسلام کے جیالو! اور اے خدمت دین کا دعویٰ کرنے والو! ان مواقع سے فائدہ اُٹھاؤ اور آگے بڑھو اور تمام دنیا کو اسلام اور اسلام کے خدا کے لئے سر کولو۔خدا ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔