خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 779
خطبات طاہر جلد ۸ 779 خطبه جمعه یکم دسمبر ۱۹۸۹ء کوئی ایسی بات نہیں جو انکساری کی خاطر گرا کر پیش کی گئی ہو۔امر واقعہ یہ ہے کہ دُنیا کے مقابل پر ہماری حیثیت اس سے زیادہ نہیں ہے۔ہاں خدا اگر چاہے اور وہ ہم سے کام لینا شروع کرے اور ہم اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیں تو یہ شطرنج کی بازی یقیناً اسلام کے حق میں جیتی جائے گی۔دنیا کی کوئی طاقت اس بازی کو اسلام کے خلاف اُلٹا نہیں سکتی۔اس پہلو سے ان بچوں کی تیاری کی ضرورت ہے۔ان کو خدا کے سپرد کریں اور جہاں تک تحریک جدید کا ان پر نظر رکھنے کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا ان کو میں نے ہدایات دی ہیں۔وہ تیاری بھی کر رہے ہیں مجھے صرف ڈر یہ ہے کہ اس تیاری میں دیر نہ کر دیں یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی تو چھوٹے بچے ہیں ابھی انہوں نے بڑے ہونا ہے حالانکہ بچپن ہی سے بچوں کو سنبھالیں گے تو سنبھالے جائیں گے۔جب غلط روش پر بڑے ہو گئے تو اس غلط روش کو بعد میں درست کرنا بہت ہی محنت کا اور جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔یہ وقت ہے کہ جب یہ نرم نرم کو نپلیں ہیں اس وقت ان کو جس ڈھب پر چاہیں یہ چل سکتی ہیں۔اس وقت ان کی طرف توجہ کریں اور اس وقت ان کو سنبھالیں اور ساری دنیا میں ہر واقف نو کی زندگی پر جماعت کے نظام کی نظر رہنی چاہئے اور ان کے والدین سے رابطے ہونے چاہئیں اور ان کو پتا ہونا چاہئے کہ ہم ایک زندہ نظام کے ہاتھ میں ہیں۔جس کے ذریعے خدا کی تقدیر کارفرما ہے۔یہ احساس بہت ضروری ہے۔یہ احساس تبھی پیدا ہوگا جب تحریک جدید کا مرکزی نظام ان لوگوں سے فعال اور زندہ رابطے رکھے گا اور خبریں لے گا کہ بتاؤ! اس بچے کا کیا حال ہے جو تم نے خدا کے سپر د کر دیا ہے۔کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ تمہارے گھر میں خدا کا ایک مہمان ہے ویسے تو ہم سب خدا کے ہیں لیکن ایسا مہمان ہے جس کو تم خدا کے لئے تیار کر رہے ہو۔کیا سوچ رہے ہو؟ کس طرح ان کی پرورش کر رہے ہو؟ ہمیں بتایا کرو۔ہمیں اس کے حالات سے باخبر رکھو۔اس کی صحت سے باخبر رکھو۔اس کی چال ڈھال، اس کے انداز سے باخبر رکھو اور با قاعدہ ان کو ہدایتیں دیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ تم اس بچے سے یہ کام لو اور اس بچے سے یہ کام لو۔اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ وہ بچے خصوصیت سے جو مغربی دنیا میں وقف ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دوسری دُنیا کے بچوں کے مقابل پر یہ بہت زیادہ سہولت حاصل ہے کہ وہ مختلف زبانیں سیکھ سکیں۔زبانیں سیکھنا بہت مشکل کام ہے اور بچپن ہی سے شروع ہونا چاہئے اور