خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 763 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 763

خطبات طاہر جلد ۸ 763 خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۸۹ء جاتا ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں یہ گر سمجھایا کہ : من لم يشكر الناس لا يشكر الله ( كنز العمال حدیث نمبر : ۶۴۴۰ ) کہ جو بندے کا شکر ادا نہ کرنا سیکھے وہ خدا کا کہاں کرسکتا ہے۔جو بندے کا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر نہیں کرتا۔یہ جو گہرا فلسفہ ہے یہ ہم روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔حوصلہ پر بھی اسی بات کا اطلاق ہوتا ہے اسی لئے میں نے کہا تھا کہ یہ معمولی بات نہیں بڑے ہو کر اس کے بہت برے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔وہ نقصان جس میں انسان بے اختیار ہو اس پر صبر کا نام حوصلہ ہے۔نقصان کی طرف طبیعت کا میلان ہونا یہ حوصلہ نہیں ہے یہ بے وقوفی ہے، جہالت ہے اور بعض صورتوں میں یہ خود ناشکری بن جاتا ہے۔اس لئے بچوں کو جب حوصلہ سکھاتے ہیں تو چیزوں کی قدر کرنا بھی سکھائیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اب یہاں بھی انگلستان میں میں نے دیکھا ہے پانی کا نقصان اور گرمی کا نقصان یہ دو ایسی چیزیں ہیں جو عام قوم میں پائی جاتی ہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ہمارے خود پاکستان سے یہاں آ کے جو بسنے والے ہیں بے ضرورت ہیٹر جلاتے ہیں۔بے ضرورت آگ جلتی رہتی ہے اس کے اوپر پھیلی ہو یا نہ ہوعورتیں پرواہ نہیں کرتیں، بے ضرورت پانی بہتے رہتے ہیں۔اس سے بہت کم میں انسان اپنی ضرورت کو پوری کر سکتا ہے اور قومی طور پر جو فائدہ ہے وہ تو ہے لیکن بنیادی طور پر ہر انسان کو ان باتوں کی طرف توجہ دینے کے نتیجے میں اپنی اخلاقی تعمیر میں مددملتی ہے اور بچوں کی تربیت میں اس سے بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔بجلیوں کو دیکھ لیجئے۔میں نے دیکھا ہے کہ گھروں میں بے وجہ بجلیاں جلتی چھوڑ جاتے ہیں لوگ۔ریڈیو آن کیا ہے یا ٹیلی ویژن آن کیا ہے تو کمرے سے چلے گئے اور خالی کمروں میں بجلیاں بھی جل رہی ہیں، ریڈیو آن ہیں یا ٹیلی ویژن آن ہیں۔کئی دفعہ میں اپنے گھر میں اپنے بچوں سے کہا کرتا ہوں کہ ہمارے گھر جن ہیں کیونکہ میں کمرے میں گیا وہاں بجلی جل رہی تھی اور ٹیلی ویژن چلا ہوا تھا۔معلوم ہوتا ہے کوئی ایسی غیر مرئی مخلوق ہے ما ہے جو آکے یہ کام کر جاتی ہے۔انسانوں کو تو زیب نہیں دیتا کہ اس طرح بے وجہ خدا کی نعمتوں کو ضائع کریں۔تو بارہا یہ دیکھا ہے تربیت کرنی پڑتی ہے لیکن صبر کے ساتھ بدتمیزی کے ساتھ نہیں اور یہ جو دو باتیں ہیں یہ اکٹھی چلیں گی یعنی حوصلے کی تعلیم اور نقصان سے بچنے کا رجحان کسی قسم کا قومی نقصان نہ ہو اس کے نتیجے میں اندرونی طور پر بھی آپ کی ذات کو، آپ کے خاندان کو فوائد پہنچیں گے اور