خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 762 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 762

خطبات طاہر جلد ۸ 762 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی نصیب ہو سکتے ہیں لیکن وسیع حوصلگی کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نقصان کو برداشت کیا جائے اور نقصان کی پرواہ نہ کی جائے۔یہ ایک فرق ہے جو میں کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اس کے دائرے کے اندر اس کو سمجھ کر ان دونوں باتوں کے درمیان توازن کرنا پڑے گا۔نقصان ایک بری چیز ہے۔اگر نقصان کا رجحان بچوں میں پیدا ہو تو ان کو سمجھانا اور عقل دینا اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں وہ ہمارے فائدے کے لئے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ چھوٹی سی چھوٹی چیز کا بھی نقصان نہ ہو۔وضو کرتے وقت پانی کا بھی نقصان نہیں ہونا چاہئے۔منہ ہاتھ دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔برتن دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔کپڑے دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔صرف ایک پانی ہی کو لے لیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہماری قوم میں اور بعض ترقی یافتہ قوموں میں بھی نقصان کا کتنا رجحان ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ ٹوٹیاں کھول کر کھڑے ہو جاتے ہیں ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ گرم پانی یا ٹھنڈا پانی جیسا بھی ہے وہ اکثر ضائع ہو رہا ہے اور بہت تھوڑا ان کے کام آ رہا ہے۔حالانکہ پانی خدا تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر کرنا ضروری ہے اور قطع نظر اس سے کہ اس سے آپ کا مالی نقصان کیا ہوتا ہے یا قوم کا مجموعی نقصان کیا ہوتا ہے یہ بات ناشکری میں داخل ہے کہ کسی نعمت کی بے قدری کی جائے۔تو حو صلے سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ نقصان کی پرواہ نہ کرنے کی عادت ڈالی جائے۔یہ دو با تیں پہلو بہ پہلو چلنی چاہئیں۔حوصلہ سے مراد یہ ہے کہ اگر اتفاقا کسی سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس پر برداشت کیا جائے اور اس سے کہا جائے کہ اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور جن کے حوصلے بلند ہوں وہ پھر بڑے ہو کر بڑے نقصان برداشت کرنے کے بھی زیادہ اہل ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ آفات سماوی پڑتی ہیں اور دیکھتے دیکھتے انسان کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔جن کو چھوٹی چھوٹی باتوں کا حوصلہ نہ ہو وہ ایسے موقعوں کے اوپر پھر خدا سے بھی بدتمیز ہو جاتے ہیں اور بے حوصلگی کے ساتھ ایک خود غرضی کا رشتہ ایسا گہرا ہے کہ اس خود غرضی کے نتیجے میں ہر دوسری چیز اپنی تابع دکھائی دینے لگتی ہے۔اگر وہ فائدہ پہنچارہی ہے تو ٹھیک ہے ذرا سا بھی نقصان کسی سے پہنچے تو انسان حوصلہ چھوڑ بیٹھتا ہے اور جب بندوں سے بے حوصلگی شروع ہو تو بالآخر خدا سے بھی انسان بے حوصلہ ہو تو