خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 758
خطبات طاہر جلد ۸ 758 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء اپنی ضرورت کے مطابق جھوٹ بولتی ہیں، اپنوں سے نہیں بولتی تو غیروں سے جھوٹ بولتی ہیں۔ان کے فلسفے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ان کا نظام حیات جھوٹ پر مبنی ہے۔ان کی اقتصادیات جھوٹ پر مبنی ہے۔غرضیکہ اگر آپ بار یک نظر سے دیکھیں تو اگر چہ بظاہر ان کے زندگی کے کاروبار پر Civilization اور اعلیٰ تہذیب کے ملمعے چڑھے ہوئے ہیں لیکن فی الحقیقت ان کے اندر مرکزی نقطہ جس کے گرد یہ تو میں گھوم رہی ہیں اور ان کی تہذیبیں جن کے او پر مبنی ہیں وہ جھوٹ ہی ہے لیکن یہ ایک الگ بحث ہے مجھے تو اس وقت جماعت احمدیہ کے اندر دلچسپی ہے اور جماعت احمدیہ کے بچوں کے اوپر خصوصیت کے ساتھ میں نظر رکھتا ہوں اور میرے نزدیک جب تک بچپن سے سچ کی عادت نہ ڈالی جائے بڑے ہو کر سچ کی عادت ڈالنا بہت مشکل کام ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے اپنے بعض خطبات میں تفصیل سے بیان کیا ہے سچ بولنا بھی مختلف درجات سے تعلق رکھتا ہے، مختلف مراحل سے تعلق رکھتا ہے اور کم سچا اور زیادہ سچا اور اس سے زیادہ سچا اور اس سے زیادہ سچا اتنے بے شمار مراحل ہیں سچ کے بھی کہ ان کو طے کرنا بالآخر نبوت تک پہنچاتا ہے اور صدیق کے مرحلے سے آگے سچائی کا جو خدا تعالیٰ نے مقام مقرر فرمایا ہے اسی کو نبوت کہا جاتا ہے۔ایسا سچا کہ جس کا کوئی پہلو بھی جھوٹ کی ملونی اپنے اندر نہ رکھتا ہولیکن یہ ہیں بڑے اور اونچے اور بلند منصوبے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کئے ہیں۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًان (النساء: (۷۰) کتنے عظیم الشان اور بلند منصوبے ہیں لیکن ان کا آغاز بیج سے ہوتا ہے اور کوئی شخص صالح بھی نہیں بن سکتا جب تک وہ سچا نہ ہو۔اس لئے بہت ہی اہم بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کو شروع ہی سے نرمی سے بھی اور سختی سے بھی سچ پر قائم کریں اور کسی قیمت پر ان کے جھوٹے مذاق کو بھی برداشت نہ کریں۔یہ کام اگر مائیں کر لیں تو باقی مراحل جو ہیں قوم کے لئے بہت ہی آسان ہو جا ئیں گے اور