خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 757 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 757

خطبات طاہر جلد ۸ 757 خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۸۹ء بڑھ رہی ہے اور اس کی رفتار ہر طرف پہلے سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔پس بڑی جماعتوں میں رفتار کا پھیلاؤ جہاں مبارک بھی ہے وہاں خدشات بھی پیدا کرنے والا ہے اور فکریں بھی پیدا کر نے والا ہے۔اسی طرح بڑی جماعتوں میں نسل پھیلتی ہے تولید کے ذریعے جماعتیں بڑھتی ہیں اس پہلو سے بھی ساتھ ہی تربیتی فکر میں بڑھنے لگتی ہیں۔پس جب میں نے مجلس خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ کو تمام ملکوں میں براہ راست اپنے تابع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس میں یہ ایک بڑی حکمت پیش نظر تھی تا کہ میں ان مجالس سے براہ راست ایسے کام لوں جن کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ہماری تربیتی ضرورتیں پوری ہو سکیں اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ محض خوابوں کے محل تعمیر نہ کریں بلکہ چھوٹے چھوٹے ایسے اقدام کریں جن کے نتیجے میں غریبانہ سر چھپانے کی گنجائش تو پوری ہو۔یہ وہ ضرورت ہے جس کے پیش نظر جیسا کہ میں نے بیان کیا مجھے یہ اقدام کرنا پڑا۔اس سلسلے میں میں آج میں دو ابتدائی پروگرام جماعت کے سامنے رکھتا ہوں اور یہ تینوں مجالس خصوصیت کے ساتھ میری مخاطب ہیں ان کو تنظیمی ہدایات انشاء اللہ تعالیٰ پہنچتی رہیں گی اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ، چھوٹے چھوٹے آسان حصوں میں ان کے سپر د عملی پروگرام کئے جائیں گے لیکن جو بنیادی باتیں میرے پیش نظر ہیں وہ میں آپ سب کے سامنے پہلے بھی مختلف حیثیتوں میں رکھتا رہا ہوں آج پھر ان باتوں میں سے بعض کو دہرانا ضروری سمجھتا ہوں۔مذہبی قو میں بغیر اخلاقی تعمیر کے تعمیر نہیں ہوسکتیں اور یہ تصور بالکل باطل ہے کہ انسان بداخلاق ہو اور باخدا ہو اس لئے سب سے اہم بات مذہبی قوموں کی تعمیر میں ان کے اخلاق کی تعمیر ہے اور یہ تعمیر جتنی جلدی شروع ہو اتنا ہی بہتر اور اتنی ہی آسان ہوتی ہے۔پس اس پہلو سے لجنہ اماءاللہ نے سب سے ابتدائی اور بنیادی کام کرنے ہیں اور یہی ابتدائی اور بنیادی کام عمر کے دوسرے حصوں میں خدام کے سپر دبھی ہوں گے اور انصار کے بھی سپر د ہوں گے لیکن بنیادی طور پر ایک ہی چیزیں ہیں جو مختلف عمر کے حصوں میں مختلف مجالس کو خصوصیت سے سرانجام دینی ہیں۔سب سے پہلی بات سچ کی عادت ہے۔آج دنیا میں جتنی بدی پھیلی ہوئی ہے اس میں سب سے بڑا خرابی کا عنصر جھوٹ ہے۔وہ قومیں جو ترقی یافتہ ہیں جو بظاہر اعلیٰ اخلاق والی کہلاتی ہیں وہ بھی