خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 753
خطبات طاہر جلد ۸ 753 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء خدا کھڑا کرے گا۔یہ جو جماعت سچی ہوگی کی خوشخبری دی اس کے متعلق جب ایک پوچھنے والے نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیسے ہم پہچانیں کہ وہ بچے ہیں۔فرمایا ما انا علیه و اصحا بی ترندی کتاب الایمان حدیث نمبر: ۲۶۴۱) تم دیکھنا جو میرا حال ہے، جو میرے ماننے والےاور میرےصحابہ کا حال ہے وہی ان کا ہوگا۔تو دیکھو تم نے گند بکنے کے بعد کس جماعت میں شامل ہونا ثابت کر دیا ہے۔کیا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی زندگی اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں تم ایک بھی مثال ایسی دے سکتے ہو کہ جس طرح تم مسجد و محراب سے انتہائی مغلظات بکتے ہو اور جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے جاتے ہو نعوذ باللہ من ذالک ایک دن بھی آنحضرت ﷺ کے کسی صحابی نے بھی یہ مسلک اختیار کیا ہو۔ہاں آپ کے خلاف جھوٹ بولے جاتے تھے۔آپ لوگوں کو گندی گالیاں دی جاتی تھیں۔آپ کے خلاف افتر اکئے جاتے تھے۔تو پھر دیکھو کہ سچا تو وہی ہے جس کی شکل حضرت رسول اکرم ﷺ اور آپ کے غلاموں کی بنتی چلی جا رہی ہے اور یہ شکل خود تو تم بنا رہے ہو اپنے ظلموں کے ذریعے۔قرآن کریم سے بچوں کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لو اور پھر دیکھو کہ کس طرح جماعت احمدیہ کیرالہ کی دعا کو خدا نے سنا ہے۔انہوں نے تو یہ مانگا تھا کہ اے خدا! رسول کے دشمنوں سے جو تو کرتا چلا آیا ہے جو ان کے حالات ہوتے ہیں وہی ان کے کر دے۔چنانچہ اب دیکھ لو کہ آنحضرت ﷺ کی حدیث نے اس مضمون کو خوب واضح کر دیا اور کھول دیا۔آپ کی مسجدیں منہدم کی جاتی تھیں۔آپ کے گھروں کو آگ لگائی جاتی تھی۔آپ کے صحابہ کو تکلیفیں دی جاتی تھیں۔گالیاں دی جاتی تھیں دن رات گند بکے جاتے تھے۔ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا تھا۔عبادت نہیں کرنے دی جاتی تھی۔کلمہ نہیں پڑھنے دیا جا تا تھا۔حج سے روکا جاتا تھا۔یہ اعلان کرنے سے باز رکھا جاتا تھا کہ ہم مسلمان ہیں۔سو فیصدی یہ تصویر حضرت محمد مصطفی امیے کے غلاموں کی آج جماعت احمدیہ کو زندہ کرنے کی توفیق ملی ہے۔ان سے یہ مظالم ہوئے اور وہ صبر کے ساتھ قائم رہے۔عبادتوں سے روکے گئے لیکن عبادتیں کرتے چلے گئے اور عبادتوں میں پہلے سے بڑھ گئے۔کلمہ توحید سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن قربانی پر قربانی دیتے چلے گئے اور کلمہ توحید سے جان سے بڑھ کر چھٹے رہے۔جانیں گنوادیں مگر کلمہ تو حید کو اپنے دل سے نکلنے نہ دیا۔یہ