خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 707

خطبات طاہر جلد ۸ 707 سکتی ہے کہ ان اعداد و شمار کو درست کر لو یہ با تیں بعد میں پیدا ہوئی ہیں۔خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء تو اس پہلو سے جماعت کو بہت ضرورت ہے کہ اپنے نظام میں توازن پیدا کرے۔بہت سی جماعتیں بہت اچھے کام کر رہی ہیں بعض شعبوں میں لیکن توازن نہ ہونے کی وجہ سے بعض شعبوں میں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔دوسری بات یہ بیان کرنے والی ہے کہ بارہا میں توجہ دلاتا ہوں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بھول جاتے ہیں۔دعا کا مضمون ایسا ہے جو ساری انسانی زندگی کی دلچسپیوں پر حاوی ہے اور عمومی دعائیں نہیں بلکہ خاص معاملات کے متعلق خاص توجہ سے دعا کرنا ضروری ہوا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس میں برکت ملتی ہے۔اس لئے امراء محض نظام کے خشک نگران نہ بنیں بلکہ ایک زندہ نظام کے زندہ نگران بنیں اور روحانی لحاظ سے ان کا دعا گو ہونا ضروری ہے ، ان کا دعا پر ایمان رکھنا کامل یقین رکھنا ضروری ہے اور ہر مشکل کے وقت دعا کے ساتھ ان کو کام شروع کرنا چاہئے اور دعا کے ساتھ مشکل کشائی کے لئے خدا کے حضور گرنا چاہئے۔اس طرح آپ کے ہر شعبے میں خدا کے فضل سے غیر معمولی برکت پڑے گی۔جو لوگ دعا کے مضمون کو بھولتے نہیں ان کے کاموں میں بے انتہا برکت ہوتی ہے اور اس سے پہلے میں نے مثلاً تبلیغی میدانوں میں بھی دیکھا ہے جہاں امراء صرف خشک نظام قائم کرتے ہیں ان کے تنظیمی نظام میں برکت نہیں پڑتی جہاں دعا گوامراء ہیں اور دعائیں کرتے بھی ہیں اور عاجزی کے ساتھ دوسروں کو بھی دعا کی تلقین کرتے رہتے ہیں ، درخواستیں کرتے رہتے ہیں ان کے ہاں غیر معمولی برکت پڑتی ہے۔پس اپنے جماعتی نظام کو خشک Mechanical دنیاوی نظام نہ بننے دیں۔اس کو اپنی دعاؤں سے، اپنے آنسوؤں سے، اللہ کی محبت سے تر رکھیں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے کاموں میں حیرت انگیز برکتیں پڑنی شروع ہو جائیں گے۔آپ کے وقت میں برکت پڑے گی۔آپ کے کاموں کے پھلوں میں غیر معمولی برکت پڑے گی۔ان کے ذائقے میں برکت پڑے گی ، ان کی مٹھاس میں برکت پڑے گی ، ان کے باقی رہنے کی صلاحیت میں برکت پڑے گی۔پس یہ دو صیحتیں میں آپ کو کرنی چاہتا ہوں یعنی نظام جماعت کے لحاظ سے توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں اور خدا کے نظام سے سلیقہ سیکھیں اور اس عرش کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ہر اچھے