خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد ۸ 676 خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء دیکھی ہے۔بے چین اور مضطرب لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد جو ہوگا دیکھا جائے گا اس دنیا میں بھی تو خدا ہمیں کچھ دکھائے۔میں ان کو بتاتا ہوں کہ اس دنیا میں بھی خدا ان کو دکھاتا ہے اور ہمیشہ دکھاتا چلا آیا ہے۔صرف ان کی آنکھیں کھلنی چاہئیں اور ہوش کی اور بصیرت کی آنکھوں سے اگر وہ دیکھیں تو خدا تعالیٰ کا سزا جزا کا قانون مستقل جاری و ساری رہتا ہے اور خدا کی تقدیر ہر وقت عملاً متحرک رہتی ہے۔جب سے پاکستان میں جماعت احمدیہ کے متعلق قوم نے بالعموم یہ رویہ اختیار کیا ہے اور جب سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف تمسخر اور تضحیک میں یہ سب حدیں پھلانگ چکے ہیں اس وقت سے ان کی تاریخ کا مطالعہ کریں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔جنہوں نے احمدیوں کے امن لوٹے ان کے اپنے گھروں کے امن اٹھ چکے ہیں۔جنہوں نے احمدیوں کی جانوں سے کھیلنا جائز سمجھا روز مرہ ان کی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔جنہوں نے احمدی عورتوں کی چا درا تارنے کی کوشش کی ان کی اپنی عورتوں کی چادر میں اتاری جارہی ہیں۔کوئی پاکستان کا علاقہ نہیں اس وقت جسے آپ مامون کہ سکیں۔ہر جگہ سے امن اٹھ گیا ہے اور اٹھتا چلا جا رہا ہے۔بچے اغوا ہو رہے، ہیں، عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں۔ہر قسم کے جرائم آزاد ہو چکے ہیں اور حکومت جانتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے دست و پاتی ہے۔وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت پر حملے کئے انہوں نے یہ بات پیش نظر نہیں رکھی کہ یہ لوگ شعائر اللہ ہوتے ہیں۔یعنی وہ خدا کے بھیجے ہوئے بندے شعائر سے تعلق رکھتے ہیں جو اللہ کے شعائر ہیں اور اس کے مقابل پر دنیا نے بھی بعض شعائر بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔خدا کے شعائر دنیا کو دکھائی نہیں دیتے اور ان کی بے حرمتی میں وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور بے باک ہو جاتے ہیں مگر پھر ان کے شعائر پر بھی ان کے سامنے حملہ کیا جاتا ہے اور وہ اسی طرح بے بس ہوتے ہیں۔آج پاکستان میں یہ بات بھی ہو رہی ہے۔کوئی چیز جو پاکستان کی نظر میں شعائر سے تعلق رکھتی ہے آج پاکستان میں محفوظ نہیں رہی۔کسی عورت کی حرمت محفوظ نہیں، کسی بچے کی حرمت محفوظ نہیں، پاکستان کے جھنڈے کی حرمت محفوظ نہیں ، اول سے لے کر آخر تک ایک ایسی خوفناک حالت جس طرح ان قوموں کے نشان ہوا کرتے ہیں جو مٹنے کے کنارے پر پہنچے ہوئے ہوں لیکن یہ