خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد ۸ 652 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء ایک ایسی حکومت کے سائے تلے جس کا ایک خاص مذہب تھا اس کو ناراض کئے بغیر اس کے مذہب پر شدید حملے کئے اور اسلام کا دفاع اس کے سائے میں اس طرح کیا کہ اس کو کوئی عذر نہ دیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسلام کے دفاع کی راہ میں حائل ہو سکے۔یہ عظیم الشان Strategy ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں اور روشن ہوتی چلی جائے گی۔اب اسی پہلو سے آنحضرت کی غیرت کے تقاضے کے طور پر آپ نے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر حملہ نہیں کیا لیکن اس تصور پر ضرور حملہ کیا ہے جس تصور کی خود عیسائی عبادت کرتے تھے اور یہ بھی ایک ایسی عظیم الشان اور باریک فرق ہے جس کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بہت سے مسلمان علماء خود بھی مشتعل ہوئے اور آج عیسائی دنیا کو احمدیت کے خلاف مشتعل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مسیح کے تصور کو دوحصوں میں تقسیم کیا۔ایک وہ تصور جو قرآن کریم پیش فرماتا ہے اور اس کی اتنی تعریف کی کہ اس سے زیادہ تعریف آپ کے لئے حقائق کے اندر رہتے ہوئے ممکن ہی نہیں تھی اور اس پہلو سے آپ نے اپنے آپ کو مثیل مسیح قرار دیا اور مسیحیت کے بچے تصور کی ایسی عظیم الشان آپ نے تفسیر فرمائی ہے کہ جب آپ اس کو پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پہلی دفعہ مسیحیت کی عظمت کا تصور انسان کے دل پر قائم ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ مسیحیت کی روح ہے جو نہ صرف ایک دفعہ ظاہر ہوئی بلکہ آنحضرت ﷺ کی ذات میں جو رحمت عالم جاری ہوئی ہے اس میں بھی مسیحیت کی روح کی دعاؤں اور التجاؤں کا دخل تھا۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں بھی اسی روح کی دعاؤں اور التجاؤں کا نتیجہ ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ آئندہ بھی یہ روح اپنے جلوے دکھاتی رہے گی اور وہ مسیح جس کو قرآن کریم نے بیان فرمایا اس کا ایسا ادب آپ کی تحریروں میں پایا جاتا ہے ایسی اس سے محبت پائی جاتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک ایسا گہرا فطری اور روحانی تعلق آپ کی ذات کو تھا کہ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔اس پہلو سے آپ نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔پس وہ شخص جو سیخ کا ایسا احترام دل میں رکھتا ہو اور مسیحیت کی معرفت ایسی رکھتا ہو کہ اس سے پہلے کبھی مسیحیت کی حقیقت پر کسی نے ایسی روشنی نہ ڈالی ہو۔جو شخص یہ کہتا ہو کہ میں اس کا مثیل ہوں وہ اس کی ذات پر گندے حملے کیسے کر سکتا ہے۔ان بیوقوفوں کو یہ بات سمجھ نہ آئی۔آپ نے جس بات پر حملہ کیا وہ بالکل اور چیز تھی۔جب حضرت