خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد ۸ 646 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء ہوتے ہیں یعنی مراد میری یہ نہیں کہ جب وہ مجاہدہ کر رہے ہوتے ہیں یا مجادلہ کر رہے ہوتے ہیں اس وقت دشمن ان پر حملے کرتا ہے۔میری مراد یہ ہے کہ جب یہ دور ختم ہو جاتے ہیں تو بعد میں آنے والی نسلیں بھی دیر تک بلکہ نسلاً بعد نسل خدا کے ان مرسل بندوں کے جہاد پر حملے کرتی ہیں اور ان کے کردار کو ایک خشونت کا کردار بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں اور انہیں جبر کا مدعی بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں اور انہیں اس طرح دنیا کے سامنے ظاہر کرتی ہیں کہ جیسے وہ خدا تعالیٰ کے پیغام کو اپنے زور بازو کے ساتھ اور قوت شمشیر سے دنیا میں غالب کرنے کی کوشش کرتے رہے۔اسی قسم کا اعتراض ان کے اس مجادلے پر بھی اطلاق پاتا ہے جو مجادلہ زبان کا مجادلہ ہوتا ہے، کلام کا مجادلہ ہوتا ہے۔اس میں منطق اور دلائل کی رو سے اور انبیاء گزشتہ کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اور ان کے کلام کو سامنے رکھتے ہوئے دشمن سے مقابلہ کیا جاتا ہے۔یہ مجادلہ ایک پہلو سے مناظرہ بھی کہلاتا ہے اور کبھی یہ مباہلے کا بھی رنگ اختیار کر جاتا ہے۔چنانچہ جب خدا کے مرسل بندے مناظروں اور مباہلوں میں مصروف ہوتے ہیں تو یہ اسی قسم کا جہاد ہے جیسے قتال کے میدان میں جہاد کیا جاتا ہے اور اس جہاد کا اس دوسرے جہاد سے ایک نمایاں فرق ہے جو خالصہ نصیحت کا جہاد ہے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی پر آپ غور کر کے دیکھیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے بیک وقت یہ دونوں جہا دسر انجام دیئے اور سب سے زیادہ حملہ دشمن کی طرف سے آپ کے اس جہاد پر ہوا ہے جو غیروں کے ساتھ قتال کی صورت اختیار کر گیا اور دیکھنے والوں نے اور مؤرخین نے آپ کی ذات اقدس پر جتنے حملے کئے وہ اس جہاد کے میدان میں کئے ہیں اور دنیا پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا آپ جبر کے قائل تھے، آپ زور شمشیر سے اپنے پیغام کو پھیلانے کے حق میں تھے اور جو کچھ بھی فتوحات آپ نے حاصل کیں وہ جبر کی قوت سے حاصل کی ہیں۔یہی مضمون مناظرے اور مباہلے کے جہاد پر بھی اطلاق پاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اوپر بھی جتنے حملے ہوئے ہیں ان کی بھاری تعداد، ان کی بھاری اکثریت اس جہاد سے تعلق رکھتی ہے جو آپ نے مناظروں اور مباہلوں کی صورت میں غیروں سے کیا ہے۔چنانچہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اوپر حملے کرنے والی کتب کا مطالعہ کر کے دیکھیں اکثر آپ کی ان تحریروں پر اعتراضات ملیں گے جو آپ نے اس مجاہدے کے دوران یعنی مناظرے کے دوران اور مباہلے کے دوران دشمن