خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد ۸ 635 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء ایسی کوشش کروں گا کہ اس کا نام دنیا سے مٹا کر چھوڑوں گا اور اپنے اس دعوی میں اس نے اپنی ساری عمر گنوا دی اس حد تک، اس شدت کے ساتھ اس نے بظاہر اپنے کئے پر پانی پھیرنے کی کوشش کی۔اپنے بنائے ہوئے کو مٹانے کی کوشش کی کہ مذہب کی دشمنی کی تاریخ میں آپ کو کم ہی ایسے لوگ ملیں گے جو اس طرح ایک مقصد کے لئے خواہ وہ اچھا ہو یا بُراکلیۂ وقف ہو چکے ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب کے سارے سفر اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کے سفر بن گئے۔وہ عرب دُنیا تک پہنچا جہاں تک اس کی آواز پہنچ سکتی تھی وہاں پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف فتوے حاصل کئے اور مخالفت کی آگیں لگائیں۔ہندوستان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک مشرق سے مغرب تک مولوی محمد حسین بٹالوی کی مخالفت کی آواز بلند ہونا شروع ہوئی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس پانی میں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز نے ایک ہلکا تموج پیدا کیا تھا ایک بھاری چٹان گرادی گئی ہے اور اس مخالفت کی طوفانی لہریں جو پہاڑوں کی طرح سر بلند ہیں وہ اُٹھ رہی ہیں تا کہ اس ہلکی سی لہر کو دبا دیں لیکن نتیجہ ! مولوی محمد حسین کی زندگی میں دن بدن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پھیلتا چلا گیا اور پھیلتا چلا گیا اور جن جن ممالک تک وہ پہنچا تھا وہ ان ممالک کے دائروں سے آگے نکل گیا اور مشرق اور مغرب میں دور دور تک الہی تائید سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی تائید میں آوازیں بلند کرنا شروع کیں یہاں تک حال ہوا ان مولوی صاحب کا کہ جب دور دراز سے لوگ سفر کر کے حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے شوق میں قادیان آیا کرتے تھے تو بٹالہ سٹیشن پر وہ اتر کر وہاں سے پھر ، یا پیدل سفر کرتے تھے قادیان تک جو کہ بارہ میل تھا یا پھر یکے لے لیا کرتے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ وہ ہر گاڑی پر پہنچا کرتے تھے جب تک وہاں موجود رہتے اُترنے والے مسافروں سے متعلق معلوم کیا کرتے تھے کہ کون قادیان کی نیت سے آیا ہے اور اسے کہا کرتے تھے کہ میں اس شخص کو زیادہ جانتا ہوں، بچپن سے اس کا ساتھی ہوں مجھے پتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے، یہ خدا پر جھوٹی باتیں کرتا ہے، اس لئے تم یہ ارادہ چھوڑ و، قادیان جانے کی کوئی ضرورت نہیں اپنا ایمان بچاؤ اور یہیں سے واپس چلے جاؤ۔ایسے ہی ایک موقعہ پر ایک دیہاتی مخلص احمدی کو ، جب اس نے روکنے کی کوشش کی تو اس نے بہت ہی عمدہ جواب دیا۔اس نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو پکڑ لیا اور جس کو پنجابی