خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد ۸ 634 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء آج سے سو برس پہلے جن حالات کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں یہ دیوانے کی بڑ معلوم ہوتی تھی کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اتنی شدید مخالفت کے باوجود اس آواز کو کسی قسم کی بقاء نصیب ہو۔کجا یہ کہ یہ مخالفانہ آوازوں پر غالب آنا شروع ہو جائے۔اس پہلو سے جب آپ احمدیت کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو کسی اور صداقت کے پیمانے کی ضرورت نہیں رہتی۔یہ اپنی ذات میں اتنا یقینی سیچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے والا پیمانہ ہے کہ جو نتیجہ یہ پیمانہ نکالتا ہے وہ کبھی جھوٹا نہیں نکلتا کیونکہ ساری دُنیا کی، ہر مذہب کی تاریخ اسی پیمانے پر جانچی جاسکتی ہے اور سچ اور جھوٹ کی تمیز اسی طرح ہو سکتی ہے۔اب دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل پر کون کون سی آواز میں تھیں اس بات کو آپ یادرکھیں اور ہمیشہ اس کو یا درکھیں تا کہ آپ کو اپنے مخالفت کے دور کے وقت کسی قسم کی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اپنے ماضی پر نگاہ کریں۔خدا کے اس سلوک کو پیش نظر رکھیں جو اس نے ہمیشہ جماعت احمدیہ سے کیا اور پھر اس سے طاقت حاصل کر کے اپنے ابتلاء کے دور کو اپنے لئے آسان بنانے کی کوشش کریں۔یہ سبق ہے جو میں آج آپ کو دینا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو بحیثیت مسلمان کوئی گروہ نہیں تھا جس نے آپ کی تائید کی ہو جو دوست تھے وہ دشمن ہو گئے ، ایسے دوست جو جان فدا کرنے والے تھے وہ جان کے دشمن بن گئے ، ایسے ایسے علماء جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اتنا حسن ظن رکھتے تھے ان میں سے بعض نے جیسا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اعلان کیا کہ جب سے حضرت رسول اکرم ﷺ کا وصال ہوا ہے اسلام کے دفاع میں اس شان کا لڑنے والا مجاہد ساری اسلامی تاریخ میں کبھی پیدا نہیں ہوا اور اس نے لکھا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے مبالغے اور ایشیائی مبالغے سے کام لیا ہے تو کوئی ایک نکال کر تو دکھاؤ جو تیرہ سو برس کے اندر اس شان کا مجاہد کسی دنیا کے ملک یا کسی مسلمانوں کی جماعت میں پیدا ہوا یعنی یہ الفاظ تو اس کے نہیں ہیں مگر یہی مضمون اس سے زیادہ قوت کے ساتھ جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی تحریرات میں لکھا اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا تو اچانک ایسی کا یا بیٹی کہ اس نے ببانگ دہل یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ میں نے اس شخص کو اٹھایا تھا اور اب میں ہی اس کو گرا کے دکھاؤں گا اور جو کچھ میں نے اس کی تائید میں لکھا تھا اس کے برعکس اس قدر زور لگاؤں گا،