خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد ۸ 629 خطبه جمعه ۲۲ / ستمبر ۱۹۸۹ء جگہ پائیں اور اس کے نتیجہ میں آپ کے گرد و پیش ماحول میں لوگ محسوس کرنے لگیں گے کہ ہمارے اندر ایک خدا رسیدہ انسان آ گیا ہے اور آپ کی دعاؤں کی برکت کے کرشمے وہ دیکھیں اور ان کے ماحول میں جو پاک تبدیلیاں آپ کی دعاؤں کے نتیجے میں ہوں وہ انہیں مجبور کر دیں کہ وہ رستہ اختیار کر لیں جس رستے پر خدا ملتا ہے اور جس کا مشاہدہ وہ خود اپنی آنکھوں سے کر چکے ہوں۔پس یہ وہ ایک طریق ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ لازماً کامیاب ہوگا۔اس کے ناکام ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔یہی وہ طریق ہے جو پہلے بھی کامیاب ہوا تھا اور یہی وہ طریق ہے جو دوبارہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سمجھایا گیا اور یہی وہ طریق ہے جس کی طرف آج میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سارے سیکنڈے نیویا کی مذہب سے عدم دلچسپی کا ایک ہی علاج ہے کہ یہاں آئے ہوئے احمدی با خدا انسان بن جائیں اور پھر خدا نما بن جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد بعض معلومات کی اصلاح کرنی ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ سکرنڈ میں ایک احمدی ڈاکٹر منور احمد صاحب شہید ہوئے تھے اس کے علاوہ اسی نام کے ایک احمدی کنڈیارو میں بھی رہتے ہیں جو بٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے خاندان میں پہلے شہادتیں ہو چکی ہیں اور جیسا کہ میں نے خطبہ میں بیان کیا تھا بہت ہمت اور حیرت انگیز صبر کے ساتھ اور وفا کے ساتھ وہ نہ صرف جماعت کے ساتھ تعلق میں قائم ہیں بلکہ ہر قسم کے خطرے کے پیش نظر اور اس کے باوجود اس خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس علاقے کو ہم نے نہیں چھوڑنا۔جب مجھے اطلاع ملی تو غلطی سے امور عامہ کی طرف سے یا جس کی طرف سے بھی اطلاع آئی منور احمد بٹ لکھا گیا اس لئے میرا ذہن کنڈیارو کے خاندان کی طرف گیا اور اپنے خطبے میں میں نے کنڈیارو کا تعارف ہی کرایا۔بعد میں مجھے ان کے بعض رشتہ داروں کی طرف سے اطلاع ملی کہ ان کا نام منور احمد جٹ تھا اور اطلاع دینے والے نے غلطی سے آپ کو بٹ لکھ دیا، غالباً اسی لئے وہ ٹھیک نہیں سمجھے اسی لئے سکرنڈ کی بجائے میرا ذہن کنڈیارو کی طرف چلا گیا تو یہ جو منور احمد شہید ہیں یہ منور احمد جٹ کہلاتے تھے ، جاٹ خاندان سے تعلق تھا اور سکرنڈ کے رہنے والے تھے۔یہ جماعتوں میں جہاں جہاں میرے خطبے کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ہے، احباب اس کو درست کر لیں۔