خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد ۸ 596 خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۸۹ء خدا تعالیٰ نے تبلیغ کا اور کتنا واضح مقصد ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ پھر تم دشمن کو شکست پر شکست دیتے چلے جاؤ گے۔فرمایا کہ پھر یہ ہو گا اور یہ ہونا چاہئے کہ شدید دشمن بھی تمہارا محب اور جان نثار دوست بن جائے۔جس کو آپ نے دوست بنانا ہو اس کو تیز کلام کے ذریعے تو دوست نہیں بنایا جا سکتا۔گھروں میں بچوں میں میں نے دیکھا ہے جب گفتگو چلتی ہے اگر کوئی ایک بچہ دوسرے کو تیزی سے جواب دے تو وہ دوسرا اور تیزی سے جواب دیتا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں ایک دوسرے کو جو ہاتھ میں آئے مارنا شروع کر دیتے ہیں۔تو وہ لوگ جو پہلے ہی آپ کی جان کے دشمن ہیں قرآن کریم فرماتا ہے ہیں جان کے دشمن ان کے ساتھ آپ تیز کلامی سے کس طرح مقابلہ کریں گے۔ان کے اندر جو بدر جحانات ہیں ان کو اور بھی آپ آگ لگا دیں گے۔ان کے اندر جو مخالفتوں کا تیل ہے ان کو تیلی دکھا ئیں گے اس لئے قرآن کریم نے بہت ہی حسین اور بہت ہی کامل کلام فرمایا ہے۔فرمایا یہ سب کچھ کرو مگر مقصد یہ پیش نظر رکھنا کہ تم نے دشمنوں کے دل جیتنے ہیں اور قول حسن اس تعریف کے تابع ہے۔قول حسن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم غالب آجاؤ بحث میں کیونکہ بحث میں غالب آنے کے نتیجے میں دل ضروری نہیں کے جیتے جائیں بعض دفعہ مخالفتیں بڑھ جایا کرتی ہیں ، بعض دفعہ دشمن چھوٹا محسوس کرتا ہے اپنے آپ کو ذلیل محسوس کرتا ہے اور ردعمل میں اور زیادہ سختی کرتا ہے۔تو فرمایا تمہاری طرز کلام حسین ہونی چاہئے یعنی دل جیتنے والی ہو اور عمل کے متعلق تو پہلے ہی میں نے بتا دیا ہے وَعَمِلَ صَالِحًا ( حم السجدہ : ۳۴) جب اعمال حسین ہوں تو قول کے اندر نہ صرف یہ کہ مزید حسن پیدا ہوتا ہے بلکہ وزن پیدا ہو جاتا ہے۔اس کے بغیر حسین قول کھوکھلا ہوتا ہے اس میں جذب کی طاقت نہیں ہوتی۔انفرادی طور پر تو ہمیں ضرورت ہے ہی لیکن اب قومی طور پر نئی صدی کے ساتھ اتنے بڑے بڑے رستے کھل رہے ہیں کہ صرف یہ سوال نہیں ہے کہ ہم اپنے دروازے کھولیں خدا تعالیٰ کی تقدیر لوگوں اور قوموں کے دلوں کے دروازے کھول رہی ہے اور بعض ایسی قوموں کی طرف سے جماعت احمدیہ کے ساتھ رابطے ہو رہے ہیں جن میں پہلے کبھی تبلیغ کے لئے کوئی دروازہ نہیں کھولا گیا تھا اور مطالبے شروع ہو گئے ہیں۔چین کی طرف سے بجائے اس کے کہ ہماری کوششیں کارآمد ثابت ہوتیں یا بار آور ثابت ہوتیں مسلسل ایسے لوگوں کی طرف سے رابطے ہورہے ہیں جن سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں