خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد ۸ 53 خطبہ جمعہ ۲۷/جنوری ۱۹۸۹ء ساری جماعت کو اس کام میں حصہ لینا ہے لیکن جہاں تک میراعلم ہے تمام جماعت کو اس کی ذمہ داریوں سے منتظمہ نے مطلع نہیں کیا یعنی ہر ملک کے منتظمہ نے مطلع نہیں کیا۔چند دن ہوئے امیر صاحب انگلستان تشریف لائے تھے انہوں نے مجھے وہ ہدایت نامہ دکھایا جو انگلستان کے افراد جماعت کی راہنمائی کے لئے جاری کرنے والے تھے۔تو مجھے خوشی ہوئی کہ ایک اچھا مثبت اقدام کیا گیا ہے لیکن بہت سی ایسی باتیں ہیں جو سمجھانی پڑتی ہیں۔محض تحریری طور پر اطلاع دینا کافی نہیں ہوا کرتا اس لئے ایسی جماعتوں میں جہاں عموماً تعلیم کا معیار بلند ہے مثلاً انگلستان ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ذہنوں میں بالعموم جلا پائی جاتی ہے ایسی جماعتوں میں بھی سمجھانا ضروری ہے ورنہ آپ خطوں کے ذریعے اور تحریروں کے ذریعے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ بعض باتیں تحریراً سمجھائی جائیں پھر بلا کر سمجھائی جائیں پھر جب دوبارہ پوچھا جاتا ہے تو پھر بھی خامیاں رہ جاتی ہیں۔اسی لئے اس بنیادی انسانی فطرت کو سمجھتے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ جب ہدایات جاری فرماتے تھے تو ان ہدایات کو خود دہراتے تھے۔پھر تیسری مرتبہ سمجھاتے تھے اس کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اب مجھے یہ ہدایات دوبارہ سناؤ تا کہ میں معلوم کروں کہ کس حد تک تم میری باتوں کو سمجھ سکے ہو۔بچپن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ہماری تربیت میں ایک بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ تھا کہ روز مرہ کی زندگی میں سبق دینے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعات سنایا کرتے تھے اور ان سے ہمیں سبق دیتے تھے۔چنانچہ یہ بات بھی میں نے ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں بارہا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ سے سنی۔آپ کا طریق یہ تھا کہ بچوں کو سیر پر کبھی ساتھ لے گئے، یا گھر میں ملاقات کے وقت چھوٹی چھوٹی باتیں شروع کر دیں تربیت کے امور کے متعلق لیکن ہر بات میں حوالہ سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہوا کرتا۔یہ بات جو میں نے ان سے سیکھی ہے یہ میں آج آپ کو سکھا رہا ہوں۔اس طریق کو اپنا ئیں اور اس طریق کے مطابق اپنے بچوں کی بھی تربیت شروع کریں ان کو بتائیں کہ کس صدی میں داخل ہونے والے ہیں، اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں ان سے پوچھیں کہ وہ کونسا عیب تم میں پایا جاتا ہے کونسی بد عادت ہے جو تم چھوڑ دو گے اور اس پہلو سے سب سے زیادہ جھوٹ پر