خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد ۸ 52 خطبہ جمعہ ۲۷/جنوری ۱۹۸۹ء کے بعد کی جاتی ہیں۔آپ ایسے طالبعلموں کو بھی جانتے ہوں گے جو سارا سال کچھ نہیں پڑھتے اور آخری دنوں میں پھر اس قدر دعاؤں پر زور دیتے ہیں کہ جو وقت ان کو کتابوں کے مطالعہ میں صرف کرنا چاہئے وہ سجدوں میں صرف کر دیتے ہیں اور خدا کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خدا سے رحم کی توقع رکھتے ہیں۔ہر چیز کا ایک وقت ہوا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر ذمہ داری کے دائرے مقرر فرمار کھے ہیں ان دائروں کے اندر رہتے ہوئے حد استطاعت تک ذمہ داریاں ادا کرنا انسان کا کام ہے۔پھر جو کمزوریاں باقی رہ جاتی ہیں، جو خلا رہ جاتے ہیں ان کو پر کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے اور بندے کا کام نہیں ہے یعنی خدا کا کام وہاں بھی رہتا ہے جہاں بندے کا کام ہے لیکن جہاں یہ بندے کا کام ختم ہو جاتا ہے وہاں سے جب خدا کا کام شروع ہوتا ہے تو تقدیر خاص جاری ہوتی ہے اور وہ دعاؤں کے نتیجے میں جب جاری ہوتی ہے تو انسان کو اعجازی کام دکھاتی ہے۔تو اس لئے جہاں تک انسانی کوشش کا تعلق ہے میں جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں اسے اپنی حد استطاعت تک پہنچا دیں، ان کناروں تک پہنچادیں جن سے آگے خلق کی حد ختم ہو جاتی ہے اور خالق کی حد شروع ہو جاتی ہے۔پھر دعائیں کریں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے کاموں میں کتنی برکت پڑتی ہے۔جہاں تک صد سالہ جو بلی کے کاموں کی مختلف شقوں کا تعلق ہے یہ تو بہت زیادہ ہیں اور ممکن نہیں ہوگا میرے لئے کہ ایک یا دو یا تین خطبوں میں بھی ان تمام شقوں کو بیان کر دوں اور اس سارے پروگرام کو آپ کے سامنے از سرنو رکھوں۔جہاں تک جماعتوں کی انتظامیہ کا تعلق ہے تمام دنیا کے ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جن کی تعداد اب ۱۸ یا ۱۹ا ہو چکی ہے۔تمام ہدایتیں جاری کر دی گئی ہیں اور ان کی یاد دہانیاں بھی کروائی جارہی ہیں لیکن ہمارے مختلف ممالک میں معاشروں کے اثرات کے نتیجے میں رد عمل مختلف ہوا کرتے ہیں بعض ممالک کی جماعتوں سے خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی مستعدی کے جواب آتے ہیں۔فوراً توجہ کرتے ہیں، فور أحتی المقدور کارروائی کرتے ہیں پھر اس کی اطلاع بھی دیتے ہیں۔بعضوں کی طرف سے رد عمل بہت ڈھیلا اور سُست رو ہے۔اس لئے آج جو دو مہینے کے قریب اگلی صدی کے شروع ہونے میں وقت باقی ہیں میں امید رکھتا ہوں کہ ان سُست رو جماعتوں تک بھی یہ بات پہنچ کر ان پر اثر انداز ہو جائے گی اور اب مزید لوگ کوئی وقت بھی سستی میں ضائع نہیں کریں گے۔