خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 567
خطبات طاہر جلد ۸ رکھنا چاہئے۔567 خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۸۹ء جہاں تک عمومی اخلاقی تعلیم کا تعلق ہے گزشتہ چند سالوں سے میں اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیتا رہا ہوں لیکن مجھے اپنے ماضی کے تجارب پر غور کرتے ہوئے یہ بات یاد آئی کہ ابھی بنیادی ٹھوس تربیت میں بہت سی کمی موجود ہے اور اگر ہم اپنے دیہات کے احمدیوں اور چھوٹے بچوں اور نو جوانوں کو بھی سامنے رکھیں تو آپ یہ بات معلوم کر کے یقینا دکھ محسوس کریں گے کہ ایک اچھے احمدی مسلمان کا جو معیار ہونا چاہئے علمی اور روزانہ کے دستور کا وہ اس بنیادی سطح پر آپ کو تسلی بخش صورت میں دکھائی نہیں دے گا۔میں جب سفر کیا کرتا تھا وقف جدید کے سلسلے میں یا خدام الاحمدیہ کے یا بعد میں انصار اللہ کے سلسلے میں تو اکثر میرا رجحان اس طرف ہوا کرتا تھا کہ بجائے اس کے کہ تقریر کر کے اور جوش دلا کے واپس آجاؤں مجالس میں بیٹھ کر پوچھا کرتا تھا کہ آپ کلمہ سنائیں۔سورۃ فاتحہ سنائیں اور نماز کا ترجمہ بتائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے حالات سے متعلق کوئی سوال کر دیا۔اس دوران مجھ پر یہ ایک انکشاف ہوا کہ اس پہلو سے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور دیگر تنظیموں کو ابھی بہت محنت کرنا باقی ہے اور اسی دوران مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ صحیح تلفظ میں بہت نقائص پائے جاتے ہیں اور سورۃ فاتحہ جن کو آتی بھی ہے یا نماز کا باقی حصہ جن کو از بر بھی ہے وہ بھی صحیح عمدہ تلفظ کے ساتھ اس کو ادا نہیں کر سکتے اور اسی طرح ان کو تر جمہ میں بھی یا تو دقتیں پیش آتی تھیں یا بعض لوگوں کو تر جمہ آتا ہی نہیں تھا۔تو اصل تربیت تو نماز نے کرنی ہے۔اگر ہم اپنی نمازوں کے لوازمات درست نہ کریں تو باوجود اس کے کہ ہم تعلق باللہ پر زور دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا لطف اٹھا ئیں نماز میں مگر وہ لطف اٹھانے کا جو طریق آنحضرت ﷺ نے سکھایا تھا اس سے غافل رہتے ہوئے ہم ہرگز اس لطف اٹھانے کے متعلق وہ توقعات نہیں رکھ سکتے جو ایک آنحضرت مہ کے مکتب میں پڑھے ہوئے تربیت یافتہ متعلم یا ایسے طالب علم کو حقیقی روحانی لذتیں حاصل ہو سکتی ہیں اور یہ ترقیات اس کو نصیب ہوسکتی ہیں۔ان کے ساتھ ایک ایسا شخص مقابلہ نہیں کر سکتا جو ان باتوں کے ذاتی علم سے عاری ہوا اور نماز جو وہ پڑھتا ہے اس کے مطالب سے ناواقف ہو اور محض محبت کے نام پر خدا تعالیٰ سے کچھ