خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 542

خطبات طاہر جلد ۸ 542 خطبه جمعه ۱۸/اگست ۱۹۸۹ء والوں میں سے جس جس نے بھی British Embassy کے Immigration آفیسرز کو انٹرویو دیاوہ بڑے متعجب تھے کہ یہ لوگ کیوں اس قدر غیر معمولی ولولے اور جذبے کے ساتھ دور دراز ملکوں میں جارہے ہیں جن میں سے اکثر غریب تھے اور ان کے پاس ان افسروں کو دکھانے کے لئے کوئی بینک بیلنس نہیں تھا لیکن بڑی پختگی اور عزم کے ساتھ یہ وعدے کر رہے تھے کہ ہم صرف جلسے میں شرکت کر کے اور اپنے امام کی زیارت کے بعد واپس آجائیں گے۔باوجود اس کے کہ بظاہر شکوک اور شبہات کی بڑی گنجائش موجود تھی لیکن ان کی صداقت کے زور نے ان انٹرویو لینے والوں پر یہ بات بہر حال ثابت کر دی تھی کہ یہ سچ بولنے والے لوگ ہیں اور جو کہہ رہے ہیں درست ہے لیکن ان کو پھر بھی یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔چنانچہ پروفیسر محمد علی صاحب (وہ پروفیسر نہیں جو معروف ہیں ایک شاعر کے طور پر بلکہ صوبہ سرحد سے ایک محمد علی خان صاحب ہیں جو صوبہ سرحد کے امیر بھی تھے اور پی اے ایف میں یعنی Pakistan Air Force میں یہ لیکچرار ہوا کرتے تھے سائیکالوجی کے مضمون پر۔سائیکالوجسٹ ہیں ) ان کا جب انٹریو ہوا تو امیگریشن آفیسر نے ان سے کہا کہ آپ تو بڑے قابل سائیکولوجسٹ ہیں مجھے ایک بات سمجھائیں کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ میں نے اپنی زندگی میں ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا۔سادہ لوح لوگ غریب عورتیں، مرد، بچے ان کو کیا سو بھی ہے کہ اتنا بے شمار روپیہ خرچ کر کے اتنے دور دراز ملک کا سفر کرنے جارہے ہیں اور کوئی دنیاوی مقصد نہیں۔مجھے بتائیں نفسیاتی لحاظ سے یہ کیا واقعہ ہورہا ہے۔تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ میں سوچ میں پڑ گیا میں نے کہا نفسیاتی لحاظ سے تو اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ ایک ہی لفظ میں اس کا جواب دوں میں نے کہا اس سے Love یہ صرف محبت کے کرشمے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے محبت سے متعلق جو فارسی میں چند اشعار کہے میرا دل ان کی طرف منتقل ہوا کہ اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی و مرحم بَرہ یار تو یکساں کر دی تا نه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احساں کر دی (در مشین فارسی صفحه : ۲۱۷)