خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 524 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 524

خطبات طاہر جلد ۸ 524 خطبه جمعها الراگست ۱۹۸۹ء پس نقش دوئی کی پہلی منزل یا نقش دوئی کا مٹانے کا پہلا قدم کہنا چاہئے وہ آسمان اور زمین کے لئے خدائے واحد کی حاکمیت کو تسلیم کرنا ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا ہے۔جب آپ نے سر جھکانے کا محاورہ استعمال فرمایا تو اس میں عبادتیں بھی آگئیں اور حاکمیت کا مضمون بھی آگیا۔یہ درست ہے کہ دنیا میں کم لوگ ہیں جو انسانوں کی عبادت کرتے ہیں وہ قو میں بھی درحقیقت جو کسی زمانے میں انسانی عبادت کے عقائد رکھتی تھیں اب انسانی عبادت کے تصور سے متنفر ہو چکی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک سر جھکانے کا تعلق ہے یہ نہ صرف ظاہر میں موجود ہے جو ایک رسم ہے جس کی دراصل کوئی حقیقت نہیں بلکہ باطن میں، انسان اپنے تعلقات کے دائرے میں اس کثرت کے ساتھ انسان کے سامنے سر جھکاتا ہے کہ مالک ارض و سماء کے درمیان ایک تفریق کر دیتا ہے۔ایک سروہ رکوع میں اور سجدے میں جھکاتا ہے جو مالک سماء کے سامنے جھکاتا ہے اور ایک سروہ زمینی طاقتوں کے سامنے جھکاتا ہے جو مالک زمین کے سامنے جھکاتا ہے جو خدا نہیں ہوتا۔اس تفریق کو دور کرنا موحد کا کام ہے اور یہ پہلا جہاد ہے جو جماعت احمدیہ کو اپنے نفسوں سے شروع کرنا ہوگا۔جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ تو حید خالص پر قائم ہے لیکن یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کو بار بار سمجھانے کی ضرورت ہے اور سمجھانے کے بعد اس کی نگرانی کی ضرورت ہے کہ اس مضمون کو سمجھنے والے اس پر کلی عمل پیرا ہیں؟ پاکستان میں جو حالات گزرے ہیں یا گزر رہے ہیں ان حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف اس مضمون کو بجھتی ہے بلکہ ہر غیر اللہ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر چکی ہے اور اس انکار کی جماعت احمدیہ کو بڑی بھاری دنیاوی قیمتیں ادا کرنی پڑی ہیں اور آج بھی وہ قیمتیں ادا کرتی چلی جارہی ہے۔پس در حقیقت اس پہلو سے آپ تمام دنیا کی مذہبی جماعتوں کا جائزہ لے کر دیکھیں آپ کو جماعت احمدیہ کے سوا کوئی ایسی جماعت نہیں نظر آئے گی جو تو حید خالص پر عمل پیرا ہونے کی قیمت ادا کر رہی ہو اور مسلسل بڑی بہادری کے ساتھ تمام غیر اللہ کی طاقتوں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے یہ توحید خالص کی خاطر قربانیاں دیتی چلی جا رہی ہو۔پس یہ وہ آغاز ہے ہماری صدی کا میں یہ چاہتا ہوں، میری یہ تمنا ہے کہ یہی اس صدی کا انجام بھی ہو اور مسلسل آغاز سے انجام تک