خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 523

خطبات طاہر جلد ۸ 523 خطبه جمعه اراگست ۱۹۸۹ء تقویٰ کا یا توحید کا یہ مضمون بہت کم آپ نے بیان ہوتے ہوئے سنا ہوگا یا کسی کی تحریر میں پڑھا ہو گا لیکن نظم کے ایک شعر میں یعنی دو مصرعوں میں آپ نے اس مضمون کو بڑی عمدگی اور وضاحت کے ساتھ کھول کر بیان فرما دیا۔توحید سے مراد یہ نہیں کہ ہم یہ دعوی کریں کہ خدا ایک ہے بلکہ حقیقت میں قلب پر جب تک نقش تو حید ثبت نہ ہو جائے اس وقت تک زبان سے تو حید کا دعوی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور وہ قومیں جنہوں نے تمام دنیا میں توحید کے غلبہ کا عزم باندھا ہو اور یہ فیصلہ کیا ہو کہ توحید کے غلبہ کے لئے دنیا کے کونے کونے میں خدا تعالیٰ کی وحدت کے جھنڈے گاڑ دیں گے ان قوموں کا زبانی دعوی کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک وہ خود موحد نہ بن چکی ہوں اور موحد بننے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ نسخہ بہترین نسخہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نسخہ ہے جس کے سوا چارہ کوئی نہیں۔ناممکن ہے کہ اس نسخے کو نظر انداز کر کے کوئی حقیقی معنوں میں موحد بن سکے۔آپ فرماتے ہیں: چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی تمہیں چاہئے کہ تم اپنے دل سے دوئی کا نقش مٹا ڈالو۔اس کے بغیر تم خدا کی وحدانیت کو نہ سمجھ سکتے ہو نہ اس سے استفادہ کر سکتے ہو۔یہ نقش دوئی کیا چیز ہے۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے دو تین ایسے نکات میرے سامنے آئے جو میں آج آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس کے دوسرے مصرعے میں دراصل نقش دوئی کی کچھ تشریح خود فرما دی یعنی شعر کے دوسرے مصرعے میں۔آپ فرماتے ہیں:۔سر جھکا بس مالک ارض و سماء کے سامنے که زمین و آسمان بظاہر دو حقیقتیں دکھائی دیتی ہیں لیکن ان کا ایک ہی مالک ہے اور یہی توحید خالص ہے کہ زمین کی طاقتوں کو خدا کی آسمانی طاقتوں سے جدا نہ سمجھا جائے اور سر جھکانے کے لئے دو الگ الگ آستان نہ ہوں۔ایک زمین کا آستان جو کسی اور کے سامنے سر جھکا رہا ہو اور ایک آسمان کا۔آستان جو خدائے واحد کے سامنے سر جھکا رہا ہو یا درکھو کہ دونوں کا مالک ایک ہے۔پس اگر نقش دوئی کو مٹانا ہے تو زمین اور آسمان کے فرق کو مٹانا ہوگا۔وہی خدا جو آسمان پر ہے وہی زمین کا خدا بنانا ہوگا یعنی اپنے لئے بنانا ہوگا اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی۔