خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 513
خطبات طاہر جلد ۸ 513 خطبه جمعه ۴ راگست ۱۹۸۹ء ٹیلی فون کی ڈائریکٹری اٹھائی اور جو جو نام انہوں نے پسند کئے ان کے نام انہوں نے چٹھیاں ڈال دیں۔جب ہم ائر پورٹ پر پہنچے ہیں تو اچانک باہر نکلتے وقت جو ایک خصوصی جگہ ہے جہاں جن لوگوں کو رعائت دیتے ہیں ان کو وہاں سے گزارتے ہیں بجائے عام مسافروں کے۔ایک تو یہ کہ وہاں ایک افسر تشریف لائے ہوئے تھے جنہوں نے ہمیں اسی رستے سے گزارا حالانکہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ نیوزی لینڈ جیسے ملک میں جماعت احمدیہ کے نمائندہ کی کسی قسم کی تکریم کی جائے لیکن بہر حال جو اصل قصہ ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم نکلنے لگے تھے اور آخری ہال میں پہنچے ہیں تو اچانک ایک حیرت انگیز نغمے کا شور بلند ہوا اور دیکھا تو کچھ لوگ اپنے مقامی لباس میں ملبوس مرد عور تیں اور بچے انہوں نے موری زبان جو نیوزی لینڈ کی پرانی زبان ہے اس میں ہمیں خوش آمدید کہی اور نغمے کی صورت میں وہ خوش آمدید کہی۔وہ اچانک ایک دم شور جو بر پا ہوا تو میری اہلیہ جو ساتھ تھیں وہ ڈر گئیں کہ یہ کیا ہوا ہے لیکن دیکھا تو وہ با قاعدہ ایک بڑے خوبصورت طائفہ کی شکل میں کھڑے تھے اور ہمیں لفظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے لیکن بہت ہی گہرا اثر تھا ان کی آواز میں اور خوش آمدید میں بڑی ایک قسم کی نرمی اور محبت کے جذبات تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہ آئے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں ان کو کچھ ٹپ دینی چاہئے یا نہیں دینی چاہئے اور چونکہ میں ان کے حالات سے واقف نہیں تھا اس لئے بڑا مترد درہا اور یہ خدا کا شکر ہے کہ میں نے ٹپ نہ دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ بعد میں پتا چلا کہ وہ صاحب جو تشریف لائے تھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہ وہاں کے سب سے بڑے چیف ہیں اور سارے نیوزی لینڈ میں ان کا بڑا احترام ہے، بڑے معزز انسان ہیں اور ایک سینئر پروفیسر ہیں۔بہت چوٹی کے عالم آدمی ہیں اور یہ محض ان کا حسن خلق تھا کہ وہ میرے جیسے اجنبی مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لئے با قاعدہ رسمی طور پر وہاں پہنچے اور بہت ہی پر اثر رنگ میں انہوں نے خوش آمدید کا نغمہ پڑھا۔اس کے بعد تو پھر وہ سولہ گھنٹے یوں گزرے جس طرح ایک تیز گھومنے والے پلیٹ فارم پر انسان سفر کر رہا ہو۔ٹیلی ویژن ، ریڈیو، اخبارات، ان کے انٹرویوز مسلسل یہ سلسلہ چل رہا تھا۔یہاں تک کہ ایک ریڈیو کے انٹرویو میں جو وہاں کا ایک بڑا پاپولر ریڈیو ہے اس نے پہلے آدھے گھنٹے کا وقت لیا۔انٹرویو کے دوران درخواست کی کہ آپ پندرہ منٹ ہمیں اور دے دیں۔اس وقت تھوڑا سا وقت تھا لیکن چونکہ پریس کا نفرنس شروع ہونے والی تھی میں نے کہا پیغام بھیج دیں چند منٹ ہم لیٹ پہنچیں