خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 510

خطبات طاہر جلد ۸ 510 خطبه جمعه ۴ را گست ۱۹۸۹ء سے اس کی راہ میں مشکلات ہیں۔اس سلسلے میں احباب کی خدمت میں دعا کی تحریک کے بعد پھر اپنا دوسرا مضمون جو سفر سے تعلق رکھتا ہے دوبارہ شروع کروں گا۔جہاں تک ہندوستان کی حکومت کا تعلق ہے انہوں نے بڑے کھلے لفظوں میں اور بڑے کھلے دل کے ساتھ اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ہم ضرور قادیان میں جلسہ کریں اور وہ سمجھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ہمارا حق ہے کہ وہ جگہ جہاں سے احمدیت کا آغاز ہوا وہاں ایک صدی کا جشن منانے کا جلسہ منایا جائے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا اعزاز ہوگا اور باوجود اس کے کہ بہت سے ممبر ز پارلیمنٹ اور دیگر افسران جن سے روابط ہوئے وہ ہندو یا سکھ ہیں لیکن بلا استثناء ہر ایک نے اس خیال کو بڑے شوق کے ساتھ سینے سے لگایا اور بار بار اس بات کا اظہار کیا کہ یہ ہمارے لئے ، ہمارے ملک کے لئے فخر کا موجب ہوگا اور جہاں تک قادیان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کے ممبر ہیں انہوں نے تو از خود بغیر ہماری تحریک کے ایک جلسہ کے موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس سال امام جماعت احمدیہ کو ہندوستان کی طرف سے دعوت دی جانی چاہئے کہ وہ یہاں آئیں تا کہ ہماری نئی نسلیں جو ایک عرصے سے جماعت احمدیہ کے امام کو دیکھنے سے محروم ہیں ان کی یہ خواہش پوری ہو اور ان کو معلوم ہو کہ قادیان سے کیا آواز اٹھی تھی اور اس جماعت کی سربراہی کیا ہوتی ہے یعنی اس قسم کے مضمون کا انہوں نے اپنے الفاظ میں ذکر کیا۔یہ تو امید افزا پہلو ہے۔دوسرا پہلو ہے پاکستان میں اس کا رد عمل اور حکومت پاکستان کا اس سلسلے میں جماعت سے تعاون یہ پہلو نہ صرف مشکوک ہے بلکہ بہت سے خطرات پر مشتمل ہے۔جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے پاکستان کے پاسپورٹ پر ہندوستان کا اندراج بالعموم دستور کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ خاص درخواست دے کر اندراج کروانا پڑتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دس پندرہ ہزار احمدی پاکستان سے قادیان جانا چاہیں تو یہ ایک ایسا اہم واقعہ ہوگا اور اتنا وسیع اثرات والا واقعہ ہوگا کہ جب تک حکومت پاکستان ایک پالیسی کے طور پر یہ فیصلہ نہ کرے کہ احمدیوں کے پاسپورٹس پر ہندوستان کا اندراج کیا جائے اس وقت تک یہ ممکن نہیں۔پھر پنجاب کے حالات سے آپ باخبر ہیں۔وہاں جو شدید دشمنی اور نہایت ہی خوفناک مظالم کی لہر دوڑی ہے اگر چہ اس کا پس منظر سیاسی ہے لیکن بہر حال اسے مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے اور