خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 492
خطبات طاہر جلد ۸ 492 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء ہے۔قاضی جاوید لودھی کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ عملاً کس حد تک اس نے حصہ لیا لیکن ڈپٹی کمشنر اور SP کسی طرح بھی اس معاملے میں بری الذمہ قرار نہیں دئے جاسکتے۔اس کا رروائی کے بعد پولیس نے جو عمل کیا ہے وہ یہ ہے کہ غیر احمدی شریروں اور حملہ آوروں میں سے ایک شخص کو بھی قید نہیں کیا گیا اس کے مقابل پر کثرت کے ساتھ احمدیوں کو حراست میں لیا گیا جس میں سے تیرہ یا چودہ ابھی تک ان کی زیر حراست ہیں اور غالبا ان کی نیت ان کے خلاف مقدمہ بنانے کی ہے۔میں نے جو قرآن کریم کی آیات آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان کا ان حالات پر بہت گہرا اطلاق ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سورۃ بروج میں فرماتا ہے کہ بعض ایسے بد بخت لوگ تھے جنہوں نے مومنوں کو آگ میں جلانے کی کوشش شروع کی اور اور آگ کی کھائیاں بنا ئیں اور پھر کھڑے ہو کر ان کا تماشا دیکھتے رہے۔مومنوں کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ انہوں نے خدا کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے نام پر پکارنے والے کے اوپر ایمان لے آئے اس کے نتیجے میں جو ظلم ان پر بر پا ہوا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے قرآن کریم میں کہ ہم اس کو خوب اچھی طرح دیکھ رہے ہیں۔ایک طرف لفظ شہید ان لوگوں پر اطلاق پاتا ہے جنہوں نے آگئیں لگا ئیں اور تماشہ دیکھنے کے لئے بیٹھے۔دوسری طرف خدا فرماتا ہے کہ میں بھی شہید تھا میں بھی دیکھ رہا تھا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو۔اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اگر تم اس ظلم سے باز نہ آئے اور اس ظلم کو دہراتے رہے تو خدا تعالیٰ بھی بہتر جانتا ہے کہ کس طرح اپنے عذاب کو دہرائے اور پہ در پے تمہیں آگ کے عذاب میں مبتلا کرے۔یہ اس سورۃ کا مضمون ہے اس کی تفصیل مزید کچھ آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں مگر یہ ترجمہ ہو جائے گا تو پھر بیان کروں گا۔شہادت کے لفظ سے استعمال کا جو میں نے ذکر کیا ہے وہ اس طرح ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ که وہ جو مومنوں سے کارروائی کر رہے تھے آگئیں لگانے کی وہ خوب اچھی طرح دیکھ رہے تھے اور شہود کا مطلب ہے اپنے سامنے ایک ظلم کر کے پھر اس کا تماشہ دیکھنا۔اس کے مقابل پر یہ آیت یہاں ختم ہوتی ہے وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ وہ تو صرف اپنی لگائی ہوئی آگوں کا تماشہ دیکھ رہے تھے مگر خدا ہر چیز پر شاہد ہے۔اس کے سامنے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں یعنی تمہاری سازشیں ان کا پس منظر کون کون ذمہ دار ہے، کون کون شامل ہے، کون کون سزا کا مستحق ہے اور کون کون کتنی سزا کا مستحق ہے یہ