خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 487

خطبات طاہر جلد ۸ 487 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بچیوں کو بھی چھیڑا جاتا ہے ،لڑکوں کو اور بچوں کو بھی چھیڑا جاتا ہے اور بار بار جماعت کی طرف سے مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار بھی کیا گیا کہ ہمیں قربانی کی اجازت دی جائے۔ہم زیادہ دیر تک اس قسم کی ذلت اور رسوائی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ہم اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن چونکہ ہمیں امام کا حکم نہیں اس لئے ہم مجبور ہیں۔تھوڑے ہیں تب بھی کوئی حرج نہیں ہم سب قربانی کے لئے حاضر ہیں صرف ہمیں اجازت چاہئے۔چک سکندر میں جماعت احمدیہ کے حالات یہ ہیں کہ وہاں اکثر نوجوان گاؤں سے باہر جا چکے ہیں۔چنانچہ جرمنی جب میں دورے پر گیا تو بہت سے میں نے نوجوان چک سکندر کے دیکھے ان میں سے ایک نوجوان جس کے کچھ عزیز پیچھے رہ گئے تھے بہت ہی دردناک طریق پر مجھ سے لپٹ کے رویا اور اس نے اس فکر کا اظہار کیا کہ یہاں میرا اس لئے دل نہیں لگ رہا کہ میرے ماں باپ یا کوئی عزیز جو اس نے بتائے چک سکندر میں ہیں اور ان کو شدید خطرہ ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی جا کر اپنی جان اس خطرے میں پیش کروں اور اگر ان کو بچانے کے لئے کچھ کوشش ہو سکتی ہے تو میں بھی کوشش کروں۔میں نے ان کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے اور جو قربانیاں جماعت کی خدا تعالیٰ نے پاکستان میں لینی ہیں اس تقدیر کو تو آپ بدل نہیں سکتے اس لئے آپ یہاں رہیں اور جو خدمت دین یہاں رہ کر سر انجام دے سکتے ہیں وہ ادا کرتے رہیں۔چنانچہ وہ نوجوان میری اس نصیحت کے نتیجے میں واپس نہیں گئے۔اس کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان میں آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جماعت احمدیہ چک سکندر میں سوائے چند بوڑھوں کے اور عورتوں اور بچوں کے الا ما شاء اللہ چند جوان بھی تھے باقی سب جماعت کمزوروں پر منحصر تھی اور اس کے باوجود ان کے خطوط سے قطعاً کسی قسم کے خوف کا کوئی بھی اظہار نہیں ہوا کبھی بھی نہیں ہوا بلکہ ہر خط سے غیر معمولی جرات اور حوصلہ اور قربانی کی خواہش عیاں ہوتی تھی۔پس خدا تعالیٰ کی یہ عجیب شان ہے کہ عید کے تین دن ابھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ جماعت کے مخالفین نے ایک ایسا بھیانک اور ظالمانہ منصوبہ جماعت کے خلاف بنایا اور اس پر عمل کیا کہ جو دنیا کے کسی اخلاقی معیار کی رو سے بھی کسی بھی انسان کو زیب نہیں دیتا خواہ وہ بھی کسی دنیا کے