خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد ۸ 486 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء حکمت اور پیغام ہے اور یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں۔اسی وجہ سے اس خطبہ میں میں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہوسکتا ہے جماعت احمدیہ کو اس غرض کے لئے تیار کیا گیا ہو اور ذہنی طور پر ہماری توجہ اس طرف مبذول کروائی جارہی ہو کہ ہماری قربانیوں کا دورا بھی ختم نہیں ہوا اور جیسی شہادت حضرت صاحبزادہ عبدالطیف صاحب شہید نے خدا کے حضور پیش کی تھی اسی قسم کی شہادتوں کا مطالبہ ابھی آسمان کی طرف سے جاری ہے۔اس کے ساتھ ہی اس میں ایک خوشخبری بھی ہے اور وہ خوشخبری بھی بہت ہی عظیم ہے۔خوشخبری یہ ہے کہ عید جن قربانیوں کی یاد میں ہم مناتے ہیں اس قربانی اور ان قربانیوں کو جو اس پہلی قربانی کے نتیجے میں بعد میں پیدا ہوئیں ان کو اللہ تعالیٰ نے اجر کے بغیر نہیں چھوڑا بلکہ قربانیوں کی نسبت سے غیر معمولی اجر دنیا کو عطا فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام جو اپنے ایک پیارے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوئے تھے اس کے بدلے آپ کو تمام دنیا ہی کا نہیں تمام انبیاء کا باپ قرار دیا گیا۔پس اس پہلو سے جہاں جماعت کو قربانیوں کے لئے تیار رہنے کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے وہاں یہ یقین بھی دلایا گیا ہے کہ کسی قیمت پر کسی صورت میں تمہاری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم الشان پھل عطا کرے گا اور انہی قربانیوں کے نتیجے میں تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کے غلبہ کے سامان پیدا ہوں گے۔عید کے خطبہ کے دوران مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ میرا یہ اندازہ اتنی جلد درست ثابت ہوگا جتنی جلد بعد کے حالات نے دکھایا کہ یہ اندازہ درست تھا۔چنانچہ عید کے تین ایام ابھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان میں جماعت احمد یہ چک سکندر گجرات کو ایک ایسی عظیم الشان اور تاریخی قربانی پیش کرنے کا موقع عطا ہوا کہ جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔جماعت احمد یہ چک سکندر کی طرف سے گزشتہ کچھ عرصہ سے یعنی ایک سال سے بھی زائد عرصہ ہوا مسلسل اس بات کی اطلا میں مل رہی تھیں کہ وہاں احمدیت کا دشمن نہایت گندے اور بھیا تک منصوبے بنارہا ہے اور دن رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے اور احمد یوں کو گلیوں میں چلتے ہوئے طعنے دے کر اور مختلف قسم کے تمسخر کا نشانہ بنا کر ذلیل ورسوا